خدا دیا سو مال اپنا آپے کھانا ، ہور اپنا ناؤں آپے جگانا.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۲۴)
تری دی ہوئی کھا رہے ہیں سبھی
مدد دے رہا ہے زمانے کو تُو
(۱۹۱۱ ، نذرِ خدا ، ۱۱۱)
منّو تو شام کے اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھاتا.
(۱۹۸۲ ، پرایا گھر ، ۱۰۳)
۲. (مجازاً) غم سہنا ؛ مصیبت اُٹھانا.
کہی بھاگونتی ، جلو تیرا بھاگ
جو کھاتی توں اپنی جوانی کی آگ
(۱۶۳۵ ، مینا ستونتی (قدیم اُردو ، ۱ : ۱۴۱))
پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اُٹھ گیا میتا
چتر کاری لگے کھانے ہمن کوں گھر ہوا چیتا
(۱۷۱۸ ، دیوان آبرو ، ۹ (ب) )
فرقت میں ہزار رنج کھاتے
قصلت کے بھی تو مزے اوڑاتے
(۱۸۸۱ ، مثنوی نیرنگ خیال ، ۲۱)
اشک پیتا ہوں تو کھاتا ہوں میں غم آٹھ پہر
اور اوقات بسر ہونے کی صورت کیا ہے
(۱۹۳۲ ، بے نظیر ، کلام بے نظیر ، ۱۶۷)
۳. (مجازاً) گنجائش رکھنا ، سمائی ہونا ، کھپ جانا.
اس کے گرد چھوٹی توپیں جو ڈیڑھ ڈیڑھ سو پونڈ کا گولہ کھاتی تھیں.
(۱۸۸۹ ، حرم سرا ، ۱ : ۱۳۴)
۴. (تلوار ، لکڑی یا کسی اور چیز کی) ضرب کھانا ، زخم کھانا ، چوٹ یا مار کھانا.
کس طرح مارتے ہیں عاشق کو
ایک دن کوئی مار کھا دیکھے
(۱۷۹۸ ، میر سوز ، د (قلمی) ، ۲۸۹)
بدن پر اس لیے دو چار گل ہر روز کھاتے ہیں
کہ نہ معلوم ہو اُلفت ہمیں اک گلبدن سے ہے
(۱۸۵۶ ، کلیات ظفر ، ۴ : ۲۰۲)
زخم جس سے تری تلوار کا کھایا نہ گیا
سر کبھی اس سے شہیدوں میں اُٹھایا نہ گیا
(۱۸۷۰ ، دیوان اسیر ، ۳ : ۴۳)
۵. (نصیب یا مقدّر کی گردش) سہنا یا برداشت کرنا ، ٹھوکریں کھانا .
واماندگی سے جا نہ سکے کارواں تلک
کھانی تھیں ٹھوکریں جو مقدّر میں رہ گئے
(۱۸۷۲ ، مرآۃ الغیب ، ۳۷۸)
غرور کی انتہا ہو گئی دماغ میں اس کے سودا ہے ... زمینِ مذلّت میں ٹھوکریں کھائیگا.
(۱۸۹۲ ، طلسم ہوشربا ، ۶ : ۴۳۲)
راہ پر خود آ جائے گا آخر ٹھوکریں کچھ دن کھانے دو
دیوانہ ہے دل سے نہ اُلجھو آؤ بھی ہو گا جانے دو
(۱۹۲۶ ، دیوانِ صفی ، ۳۶)
۶. (مجازاً) تباہ برباد کرنا ، مٹانا ، معدوم کر دینا.
کہ سیمرغ آ کر وو کھاوے تجے
چھپے نہ اگر یاں تو کھاوے تجے
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری ( ضمیمہ) ، ۲۳)
میں نے چاہا تھا ترے عشق ہی میں غم کھاؤں
لیکن افسوس تیرے غم ہی نے کھایا مجکو
(۱۷۸۲ ، دیوان محبّت ، ۱۴۶)
جیتے تو غمِ گردشِ افلاک نے کھایا
اور مر کے چُھٹے اس سے تو پھر خاک نے کھایا
(۱۸۰۹ ، جرأت ، ک ، ۱ : ۸۱)
جب سے چمن چُھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
(۱۹۲۴ ، بانگ دار ، ۲۴)
۷. استعمال میں لانا ، صرف کر ڈالنا.
حضور ہمارے صاحب کے جوتے فس کلاس چمڑے کے ہیں ، زیادہ پالش کھاتے ہیں.
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۳ : ۴۳)
۸. ہڑپ کرنا ، نِگل کجانا ، قبضہ کر لینا ، ہضم کر لینا.
اب سننے میں آ رہا ہے کہ ناگپور کے بھونسلا خاندان کی مرہٹہ ریاست کو بھی کھانا چاہتا ہے.
(۱۹۴۶ ، جھان٘سی کی رانی ، ۲۱)
۹. ڈسنا ، ستانا ، تکلیف پہنچانا.
بغیر پیو منج سیج کھاتی دسے
کوڑاتی ہے چُپ آس کاٹی منج
(۱۶۳۵ ، مینا ستونتی (قدیم اردو ، ۱ : ۱۴۵))
جو شخص اس لئے لوگوں سے بھیک مانگے کہ اِس ذریعہ سے اپنے مال کو بڑھائے تو یہ سوال قیامت کے دن اُس کے چہرہ پر ایک زخم ہو گا اور دوزخ میں گرم پتّھر بن کر اس کو کھائے گا.
(۱۹۵۶ ، مشکوٰۃ شریف ، ۱ : ۴۳۴)
۱۰. (جی یا جان کے ساتھ) پریشان کرنا ، تنگ کرنا.
بس میں کہتا ہوں اپنے گھر جاؤ
حضرتِ عشق تم نہ جی کھاؤ
(۱۷۹۸ ، میر سوز ، د (ق) ، ۴۶۲)
۱۱. (قسم یا حلف) اُٹھانا ، عہد کرنا.
نادانی کے غرور سے سوگند مغلّط طلاق یاد کر کے کھا بیٹھا.
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۱۰۷)
تیرے ہمارے بیچ میں ہے روئے مصطفٰےؐ
کھا تو قِسم نہیں ہیں یہ گیسوئے مصطفٰےؐ
(۱۸۷۴ ، انیس ، مراثی ، ۲ : ۲۴۰)
تازہ غم کھایا کئے ہم وہ ہیں پاکیزہ مزاج
اور تم کھاتے رہے جھوٹی قسم کھائی ہوئی
(۱۸۸۴ ، آفتاب داغ ، ۱۴۲)
۱۲. مطابقت رکھنا ، ملنا.
علماء دین لکھتے ہیں کہ ملک و ملکوت میں کوئی جگہ اوسکے تربہ کو لگا نہیں کھاتی.
(۱۸۷۵ ، مرج البحرین ، ۱۴۵).
یہ ... تمام عناصر مسلسل اور علی الترتیب مرتب نہیں ہوں گے بلکہ مجموعوں میں بٹ جائیں گے اور ان میں بعض دوسروں سے موافقت کھاتے معلوم ہوں گے.
(۱۹۱۰ ، ادیب ، نومبر ، ۲۰۸)
۱۳. رشوت لینا ؛ اثر قبول کرنا (سردی یا اوس وغیرہ کا) ؛ چاٹنا ، کھوکھلا کر دینا ؛ اُٹھنا ، صرف ہونا ؛ سننا (گالی) .
(نوراللغات)
[ پ : # ].
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .