۱. (قواعد) اضافت کے تمام معانی میں مستعمل ہے جیسے : یونیورسٹی کا کتب خانہ ، سونے کا گلاس ، کراچی کا باشندہ ، چار دن کی بات ، حنا کا عطر ، ایک بوری کا بوجھ ، دودھ کا پیالہ جمعرات کا دن ، ایک روپیہ کا قلم ، شیر کا پنجہ (بطور تشبیہہ) دل کا کنول (بطور استعارہ) ، ہمارا شہر ، قیامت کا سماں ، پہاڑی کا پتھر ، پنڈلی کا گوشت
عشق کا رموز نیارا ہے
جز مدد پیر کے نہ چارا ہے
(۱۲۶۵ ، حضرت بابا فرید گنج (اردو کی ابتدائی نشوونما ، ۱۱) .
گواہ داری یہی عارف الوجود - اس وجود کا عرفان مینچ کیا تفاوت ہوے گا .
(۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، ۳۹) .
کہوں حمد میں پاک رحمان کا
کہ او حمد زیور ہے ایمان کا
(۱۶۳۵ ، مینا ستونتی (قدیم اردو ، ۱ : ۱۱۸) .
پیاس کے سبب باغباں کے تائیں کٹورا دیا کہ تو انار کا رس دے .
(۱۷۴۶ ،قصۂ سہرافروز و دلبر ، ۱۹) .
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۱۰۷) .
ملکہ نے کہا والد کا ناگوار ہونا سراسر خلاف ہے .
(۱۹۰۰ ، طلسمِ خیالِ سکندری ، ۲ : ۸۲۶) .
ان کی وزارتِ عظمیٰ کا دور پاکستان کے لئے استحکام ، استقلال اور سر بلندی کا زمانہ تھا .
(۱۹۸۷ ، شہاب نامہ ، ۴۳۵) .
۲. فعل کے بعد مستقبل کے معنی میں ’’گا‘‘ کا ہم معنی .
چلا تھا غیر کے جو ساتھ کھانے چھوڑ کر ہم کوں
تو پھر آنے کا نہیں کہ آبرو سیں ہاتھ کو دھو جا
( ۱۷۱۸ ، دیوانِ آبرو ، ۸)
مت کرو دوستی مجھ سے کہ نہیں رہنے کا
میں مسافر ہوں کوئی دن کو چلا جاؤں گا
( ۱۷۹۸ ، میر سوز ، د ، ۴۷)
بگڑتے جاتے ہو جوں جوں تمہیں مناتا ہوں
اسی پہ کہتے تھے اب دل نہیں دکھانے کا
(۱۸۹۷ ، خانۂ خمار ، ۳۰) .
بختِ برگشتہ نہیں راہ پر اب آنے کا
جان دینے سے ترے میں نہیں بچ جانے کا
(۱۹۴۲ ، خمسۂ متحیّرہ ، ۱ : ۵۳) .
۳. جیسے کے معنی میں .
آبادیِ جہاں کو آتا تھا رشک اس پر
چندے یہ ملکِ کو دل تھا آباد اس طرح کا
(۱۸۰۹ ، جرأت ، ک ، ۱ : ۱۳۵) .
۴. کو ، کے معنی میں .
گلاب چھڑکائے کے ایک گھڑی کے بعد بادشاہ کا ہوش ہوا .
(۱۸۰۰ ، قصۂ گل و ہرمز ، ۲۰) .
منہ افعی گیسو کا لگانا نہیں اچھا
موذی کو بہت سر پہ چڑھانا نہیں اچھا
(۱۸۶۶ ، ہزبر ، د ، ۱۹) .
ان کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ کسی پر ظلم زیادتی کرنے کا ، ان کا دل چاہتا ہے .
(۱۹۵۶ ، شیخ نیازی ، ۹۰) .
۵. پر کے معنی میں .
ہوا ہوں دل سے شیدا میں پیا کی مہربانی کا
فدا کرتا ہوں ہر دم جیو کوں اپنے یار جانی کا
(۱۷۱۸ ، دیوانِ آبرو ، ۷) .
۶. میں یا کو کے معنی میں .
تو نہ کر نساخ اوس کی زلفِ شبگوں پر نگاہ
دیتا ہے سیّاح کو تکلیف چلنا رات کا
(۱۸۵۹ ، دفترِ بیمثال ، ۴۷) .
فرہنگ میں سنسکرت کے ان الفاظ کو داخل کرنے کا کوئی مضائقہ نہیں جو آج کل ہندی زبان کی لغات ہوں .
(۱۹۲۸ ، سلیم پانی پتی ، افاداتِ سلیم ، ۴) .
۷. سے متعلق ، یا کے لیے ، کے معنی میں .
وقتے یک جاگا کا دم مرتا تو وہاں کا حرکت مند ہوتا .
(۱۵۸۲ ، کلمۃالحقایق ، ۳۱) .
روزہ رکھنا بھی سوائے اللہ کے دوسرے کا نہ چاہئے .
(۱۸۲۲ ، نصیحت المسلمین ، ۲۱) .
پرسوں سے غائب ہے اور یہاں کا کہہ کے آئی تھی کہ وہاں جاتی ہوں .
(۱۸۸۹ ، سیرِ کہسار ، ۱ : ۱۷۹) .
رسالہ زمانہ کے لیے ہم سے مضمون کی فرمائش کی معاوضے کا سن کر فرمایا .
(۱۹۳۳ ، زندگی ، ۲۴۹) .
۸. سا ، جیسا ، مشابہ ، ملتا جلتا ، مثل کے معنی میں .
شور ہے عالم میں تیرے حُسنِ عالمگیر کا
تو ہی ہو گا گر کوئی ہو گا تری تصویر کا
(۱۸۴۴ ، امین (خواجہ امین الدین) ، د ، ۲۲۸) .
چشمِ لیلیٰ نے کہا قیس سے جاتا ہے کہاں
کوئی آہو مری شوخی بیاباں میں نہیں
(۱۹۱۵ ، جانِ سخن ، ۸۵) .
۹. صاحب والا کے معنی میں .
پیچھیں ہمت کا آدمی .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۴۴) .
کوئی کہتا ہے کہ میں بیس برس کا پڑا ہوں کوئی کہتا ہے میں تیس برس کا پڑا ہوں .
(۱۷۴۶ ، قصۂ مہر افروز و دلبر ، ۶۵) .
دریاؤں میں کل کا تمھارا دریا کس شمار میں تھا .
(۱۸۹۰ ، جغرافیۂ طبیعی ، ۱ : ۵) .
۱۰. بلحاظ ، باعتبار کے معنی میں جیسے قول کا سچّا ، بات کا پکّا
(نور اللغات) .
۱۱. گرہ کا ، قبضے کا ، ملکیت کا ، جیسے : اس کا کیا جاتا ، ان کا کیا بگڑتا ہے
(مہذب اللغات) .
۱۲. جب کا سے پہلے اور بعد میں ایک ہی لفظ ہو تو حسبِ ذیل معانی کے لیے مستعمل ہے .
(i) کُل ، سارا کثیر یا طویل کے معنی میں .
وہ جو روپیہ کا روپیہ ہی رلے میں ڈال دیا تو کوئی حساب لینے والا نہیں .
(۱۸۷۴ مجالس النسا ، ۱ : ۸۰) .
انشاللہ خاں نے ایک قصے کا قصہ اردو میں التزام سے لکھا ہے .
(۱۹۱۱ ، مقامات ناصری ، ۵۷۹) .
ہمارے ملک میں اسلام کا بڑا زور ہے اور اسلام بھی سارے کا سارا صرف خواتین کے لیے .
(۱۹۸۷ ، آجاؤ افریقہ ، ۱۸۳) .
(ii) مطلق یا بالکل کے معنی میں .
شاہزادہ ویسا ہی جاہل کا جاہل ہے .
(۱۹۲۶ ، شرر ، مضامین ، ۳ : ۶۰) .
(iii) بھی کے معنی میں .
پہاڑ پر سے گر پڑا چوٹ کی چوٹ آئی الّو کا الّو بنا ، آپ فرماتے ہیں کہ یہ کیا لغو حرکت تھی .
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۱ : ۲۰۴) .
اس میں بے وقوف کا بے وقوف بننا پڑتا اور نقصان کا نقصان اُٹھانا ہوتا ہے .
(۱۹۱۰ ، راحت زمانی ، ۶۹) .
(iv) ایک ہی حالت میں رہنا کے معنی میں (بیشتر افعال حالیہ کے درمیان) .
سخت جانی سے مری کھینچا مرے قاتل نے ہاتھ
میں تڑپتے کا تڑپتا زیرِ خنجر رہ گیا
(۱۹۱۱ ، ظہیر دہلوی ، د ، ۲ : ۳۶) .
س
[ س : क سے مشتق]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .