دیکھیا آ تماشا کتنے دھات کا
ملیا تھا خلق بھوت کئی بھانت کا
ایک درخت پیپل کا ہے ... جس کے تلے کئی ہزار سوار کھڑے رہیں.
(۱۷۴۶، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۲۱۳).
جاں بلب اوس زلف کے قیدی ہیں دیوانے کئی
مر گئے بستر پہ غم کے مار کر شانے کئی
ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
نیم بسمل کئی ہوں گے ، کئی بے جاں ہوں گے
یہ بھی تم جانتے ہو چند ملاقاتوں میں
آزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں میں
قرآن شریف ویسے ... مل جائیں تو کئی لوگ پڑھ سکیں.
(۱۹۶۴، نور مشرق ، ۱۸۹).