جکوئی کس کنے آوے غرض عرض کرے
وہی بھلا جو غرض وو اپس پو فرض کرے
اگر غرض تمہارا میرا مارنا ہے پس میں یہاں کھڑا ہوں .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۰۵)
انسان اپنے قول قرار پر نہیں رہتا غرض کے وقت سب کچھ کہتا ہے .
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۱۰)
جم کے بیٹھا کہ نفسانی غرضوں کا حجاب آنکھوں سے اوٹھا .
(۱۸۵۷ ، گلزار سرور ، ۸۷)
اسی غرض سے رزیڈنٹ وقت مسٹر سانڈرس ہم رکاب تھے .
(۱۹۳۵ ، چند ہمعصر ، ۳۸۷)
پھر میں نے اپنے آنے کی غرض بیان کی .
(۱۹۸۱ ، سفر در سفر ، ۳۸)
جسے خدا کی محبّت سوں غرض ہے ، اسی پر فاتحہ ہمارا فرض ہے .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۰)
مدت ستی اے گلبدن چھوڑا چمن کی سیر کوں
مشتاق ہوں تجھ درس کا مجکوں چمن سوں کیا غرض
جائے کلاہ داغِ جنوں کا کھرنڈ ہے
کب ہے سرِ برہنہ کو دستار سے غرض
کُنجڑے کو کیا غرض تھی کہ وہ دھو دُھلا کر دیتا .
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۶۸)
کہ آنکھیں تو آئینے ہیں
اور آئینوں کو غرض نہیں ہے
کہ کون چہرہ نظر نشیں تھا