سرگ کا طوطی پریا مشک خاطائی چڑیا
رات کا عنیر سریا صبح کی بھوٹی کرن
سورج خوش رنگ سیں ہی ہے کرِن جیوں ہو قلم لے کر
صورت شہ کی لکھن آیا عطارد اب چتارا ہو
(۱۶۰۹، قطب مشتری، ۹۴).
وہ دلبر جو سورج ہے تس کے لیے کرن ہیں .
(۱۷۴۶، قصۂ مہر افراز و دلبر ، ۳۱).
طرہ زر کا ترے ہے یہ پھبب کا عالم
جیسے ہو صبح کو سورج کی کرن کا عالم
(۱۸۱۵، دیوان بیختہ ، ۷۴).
ایلو ! سورج کی کرن نکلی .
(۱۸۸۵، بزم آخر ، ۲۰).
آفتاب حق کی کرنیں ان کثیف بادلوں میں سے چھن چھن کر سطح قلوب پر گرتی تھیں .
(۱۹۱۴، سیرۃ النبیؐ ، ۲: ۱۱).
صبح کی پہلی کرن کو پکڑتے .
(۱۹۸۷، آجاؤ افریقہ ،۱۰۸).
باند خنر کرن کی زریں فرنگ بات لے
صبح کے وقت آئیا پیک دو پیالی شراب
(۱۶۱۱، قلی قطب شاہ ، ک ،۳: ۲۰).
ہے قہر پری تری اس زرہ شال میں
کافر ٹکا ہوا یہ مسلسل کرن کے ساتھ
(۱۸۱۸، انشا ، ک ، ۱۲۱).
بعض کے دوپٹے میں لچکا ٹکا کرن لگی ، اس کی گاتی سورج سے زیادہ جگمگاتی .
(۱۸۸۲، طلسم ہوش رہا ، ا :۶۲).
سرخ رنگ کی تلک (پشواز) تھی اس پر بھی لچکے بنت اور کرن ٹکی تھی .
(۱۹۶۴، نور مشرق ، ۵۳).