جو کوئی آتا اس سوں جھگڑتا ، کُتّا ہو کر لڑ لڑ پڑتا.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۶۷)
ہر یک چمٹی کتّے تھے آئی بڑی
اور جنگلی سُور سی جنگل میں کھڑی
سر پر پیالہ دے مارا اور کہا جاتیں کتّا ہو جا ، سو کتّا ہو جاتا ہے.
(۱۷۴۶ ؟ ، قصۂ مہرافروز و دلبر ، ۱۴۵)
جو کوّا یا چیل اور بچّھو اور سانپ اور باولا کتّا مارے تو مضائقہ نہیں.
(۱۸۴۵ ، احوال الانبیا ، ۱ : ۲۴۵)
تہیں پھرتے گو پہرے والے ابھی
عمر پھونک اٹھتے ہیں کتّے کبھی
کتّا مار عملہ سال پیچھے کبھی نظر آ جاتا.
(۱۹۸۷ ، اردو ڈائجسٹ ، لاہور ، اپریل ، ۳۱۲)
کہ یرموک میں تجھ سا کتّا لعیں
مقابل مرے آ گیا تھا کہیں
آج یہ خدا کو بھولی ہے ، اتنا بھی نہیں جانتی کہ خاقان کون کتّا اور کس کھیت کی مولی ہے.
(۱۹۰۷ ، سفید خون ، ۴۸)
فرمایا کہ اے کتّے پہلے تو نے دادا کو قتل کیا اس کی سزا میں تو مقتول کا غلام بنایا گیا.
(۱۹۳۹ ، حکایاتِ رومی ، ۱ : ۱۲۶)
گھر بیٹھے مجھ غیر کو دعویٰ ہے جنگ کا
اپنی گلی میں شیر ہے کتا تفنگ کا
گھڑی میں اوپر جو پیتل کا ٹکڑا لگا ہے اس کو کتّا کہتے ہیں.
(؟ ، رسالہ معین گھڑی سازی ، ۱۷)
اس کے اندر بھی دو دانت ہوتے ہیں جن میں کتّے آ کر پھنستے ہیں.
(۱۹۷۰ ، دھات کاری ، ۷۸)