ملکوں ملکوں شہروں شہروں قریہ قصبہ دیہہ و دیار
شعر و بیت و غزل پر اپنے ہنگامہ ہے گھر گھر آج
اس مقام میں قریے اور قصبے اور کشت زار کثرت سے ہیں.
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۱۷۴)
ایک ہوائی جہاز کسی قصبہ میں ہم پھینکنے گیا تھا.
(۱۹۲۱ ، لڑائی کا گھر ، حسن نظامی ، ۳۱)
بارہمولہ جیسا بارونق قصبہ سنسانِ پڑا تھا اور شہر خموشاں کا منظر پیش کر رہا تھا.
(۱۹۸۲ ، آتش چنار ، ۴۲۵)
قصبہ (Trachea) یا ہوا کی نالی (Wind Pipe) ایک غضروفی اور غشائی نلی ہے.
(۱۹۳۴ ، احشائیات (ترجمہ) ، ۲۳)
ایک نوکر نے دھوکے سے اپنے گلے میں چھری مار لی اور اس سے کے ریہ کے بعض قصبہ کٹ گٹ گئے.
(۱۹۴۷ ، جراحیاتِ زہراوی ، ۸۵)