الٰہی کرم کا کرن ہار توں
ہے اوّل و آخر رہن ہار توں
نوشہ جانن بھرم ہے انجانن بھی بھرم
بھرم بناں ناں چاہیے جپ تپ کرم اور دھرم
یہ حضور کے باپ دادا کے رافت و کرم و عدالت کا حال تھا .
(۱۸۹۷ ، شام سلطنتِ تیموریہ ، ۴).
گناہو تمہارا بھی ہے امتحاں
کرم آزمانے کے دن آ گئے
ایسا حال سمجھنا خدا تھے خدا کوں جس پر کرم خدا کا ہوئے .
(۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، ۲۱).
توں ٹک کرم کرتی ہے تو سب کام ہوتا ہے .
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۲۰).
حق نے اپنے کرم ستی مجھ کوں
ملکِ خوبی کا بادشاہ کیا
ستم کو ہم کرم سمجھے جفا کو ہم وفا سمجھے
اور اس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اس بُت سے خدا سمجھے
آپ اس حالت میں بھی ازراہِ عدل و کرم باری باری ایک ایک بیوی کے حجرے میں تشریف لے جاتے رہے .
(۱۹۱۴ ، سیرۃ النبیؐ ، ۲ : ۱۷۱).
میری تصویر پہ بھی میرے مصوّر ہو کرم
رنگ کیا کیا تجھے کونین میں بھرتے دیکھوں
عرب میں بچّہ بچّہ اپنے نسب کا یاد رکھنا ضروری سمجھتا تھا کہ وقتِ مفاخرت اپنے کرم نسب کا ثبوت پیش کر سکے .
(۱۹۱۵ ، ارض القرآن ، ۱ : ۲۰).