۱. انکشاف کرنا ، کھولنا ؛ ظاہر کرنا ، عیاں کرنا ، نمایاں کرنا ، بیان کرنا ؛ اظہار کرنا
جسم کا وہ حصہ جس کا کشف شرعاً ناجائز ہے
(۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ، ۱: ۱۳۴)
کشف کے معنی کھلنے کے ہیں
(۱۹۲۱ ، مصباح التعرف ، ۲۰۵)
جب اولاد کی محبت اور بیٹے کو داؤ پر لگے ہونے کی تڑپ ہو تو باپ کو کشف سا ہونے لگتا ہے
(۱۹۸۹ ، ترنگ ، ۹۵)
۲. ظاہر ہونا ، انکشاف
خدا تج کوں دیتا ہر یک کشف راز
مجھے باٹ دکھلا کے کر سرفراز
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری (ضمیمہ) ، ۱۵)
ہوئے مُطّلع جب شہِ انس و جاں
غمِ کشفِ سر نے کیا نیم جاں
(۱۸۴۸ ، ہیبتِ حیدری ، ۷۰)
علم کلام اس عمدہ مقصد کے لیے کافی نہیں بلکہ کشفِ حقائق کی بہ نسبت اس سے خبط اور گمراہی زیادہ بڑھتی ہے
(۱۹۰۱ ، الغزالی ، ۱۴۳)
۳. پردہ اُٹھانا یا اُٹھنا
جاننا چاہے کہ کشف کے لغوی معنی پردہ اٹھانے کے ہیں
(۱۸۸۷ ، فصوص الحکم (مقدمہ) ، ۵۴)
الٹ رہے ہیں دمِ نزع آنکھ کے پردے
قریبِ وصل ہے کشفِ خجاب ہوتا ہے
(۱۹۲۳ ، انجم کدہ ، ۵۹)
کشف کے لفظی معنی ... کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں
(۱۹۸۷ ، سید سلیمان ندوی ، ۱۷۶)
۴. (i) (تصوف) سیر و سلوک میں سالک پر غیب کے اسرار ظاہر ہونا نیز سالک کا یہ حال یا مرتبہ
کرن ہار توں کشف اسرار کا
بخشن ہار گنہ منجہ گنہگار کا
(۱۵۶۴ ، پرت نامہ (اردو ادب ، جون ، ۱۹۵۷ ء ، ۱۰۲)
اینو بزرگاں کے ملنے تے ای کشف حاصل ہوتا ہے
(۱۶۰۳ ، شرحِ تمہیداتِ ہمدانی ، ۱۵۶)
اوس کو بوجھوں کہ کشف رکھتا ہے
جو میرے دل کی بات بتلا دے
(۱۷۳۹ ، کلیاتِ سراج ، ۴۱۶)
زاہدِ خشک کا مرے ڈول بندھا تھا ایک رنگ
سو وہ بیانِ کشف میں شیخی تمام جھڑ گئی
(۱۷۹۵ ، قائم ، ک ، ۱: ۱۸۰)
ایک صاحبِ دل مراقبے میں گیا تھا اور کشف کے دریا میں ڈوبا تھا
(۱۸۰۱ ، باغِ اردو ، ۵)
گو ہم کو کشف و مکاشفہ نہ ہو ، مگر ہم کو سمجھنا تو چاہیئے کہ یہ کیا چیز ہے
(۱۸۹۸ ، سرسید ، مضامین ، ۸۸)
صاحبانِ کشف و کرامات و تارکان دنیا بھی گزرے ہیں
(۱۹۲۶ ، حیاتِ فریاد ، ۵)
ان پر آیات کا مفہوم کشف کے ذریعہ واضح ہو جاتا
(۱۹۸۳ ، اردو ادب کی تحریکیں ، ۸۴)
(ii) الہام کے ذریعے پوشیدہ چیزوں کا جاننا
مل گئی ہر ایک طالب کو جو دولت کشف کی
علمِ باطن پر ہوا ظاہر عبورِ مصطٰفےؐ
(۱۸۷۳، بیخود ، د ، ۳)
آپ کی پہلی زندگی کا سوال تو میں اپنے کشف کی بنا پر بغیر کسی تذبذب کے کہہ سکتا ہوں
(۱۹۸۷ ، اک محشرِ خیال ، ۴۴)
[ع]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .