باہیں کبوتر کے کیا چک تیرے اِت جوت سوں
سوکا ہے کاغذ نل کا جیوں باندے ہیں اس کے پر مگر
مارے پنکھیاں مو دل کا کبوتر تو پنتھ میں
ویوو نہ دانا پائی یہ تم شرع ہے رَوا
کبوتر کیے بازی آ باز سوں
اوڑے جوت سورج کی پرواز سوں
باہر نہ جانے دیتیں تیں فریاد کو بہم
بوجھیں تھیں شاہ باز و کبوتر کا واقعہ
خدا کھیا چھار چناواں کوں لیاؤ ، یک حرصِ کا کبوتر، دُسرا شہوت کا کوّا ، تسرا زینت کا مور ، چوتھا اُمید کا رنکیداس.
(۱۸۶۵ ، چھ سر ہار (ق) ، ۸ ب)
نہ تیتر بٹیر اور کبوتر ملا
دیے باز جرّوں کو سارے کھلا
پیٹی کا تو یہ حال ہوا جیسے کبوتر کو ذبح کر کے نیم بِسمل تڑپتا ہوا چھوڑ دیں.
(۱۸۹۱ ، ایامٰی ، ۸۰)
کبوتر کی بیٹ آٹے میں مِلا کر جس حیوان کو کھلائی جاتی ہے مرجا تا ہے.
(۱۹۲۶ ، خزائن الادویہ ، ۵ : ۳۸۱)
اس وقت نہ کبوتر کی کوئی خوبی تھی نہ نُورجہاں کی.
(۱۹۸۱ ، سفر در سفر ، ۸۲)