موسم گیا وہ ترکِ محبت کا ناصحا
میں اب تو خاص و عام میں بدنام ہوچکا
حضرت رسول ِخدا صلی اﷲ علیہ وسلم عرب کے اُن قبیلوں کو جو حج کے موسم میں آتے تھے اسلام کی طرف ہدایت فرماتے ۔
(۱۸۸۷ ، خیابان آفرینش ، ۴۸) ۔
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم
ایک ہی زمین سے ایک پھل ایک موسم میں نکلتا ہے دوسرا دوسرے موسم میں ۔
(۱۹۷۲ ، معارف القرآن ، ۵ : ۱۵۹) ۔
بارش کے موسم میں حد نظر تک فصلوں کا سلسلہ پھیلا ہوا نظر آتا ہے ۔
۹۹۴ ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ، حیات و خدمات ، ۲ : ۵۸۹) ۔
دیکھ کر خالی مرے زنداں کو کہتا ہے وہ شوخ
ایک موسم میں یہاں زنجیر کا غل ہوگیا
(۱۸۲۳ ، ہوس ، د (ق) ، ۷) ۔
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ موسم اچھا ہے ۔
(۱۹۸۳ ، خط انشا جی کے ، ۱۳۱) ۔
اپنے محور پر برس روز کے گھومنے سے موسموں کا تغیر اور تبدل ہوتا ہے ۔
(۱۸۵۶ ، فوائد الصبیان ، ۱۴۴)
وہاں بھی تاریکی اور روشنی ہے ، خزاں اور بہار ہے ، فصل و موسم ہے ۔ (۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۱) ۔ سال کو چار موسموں میں تقسیم کیا گیا ۔ (۱۹۶۹ ، علم الافلاک ، ۱۰۲) ۔ موسم ، فضا ، ماحول ، وقت کی پرچھائیاں ، بڑی کرامتیں دکھلاتی ہیں ۔
(۱۹۹۰ ، چاندنی بیگم ، ۲۲۶) ۔