۱۔ ایک روایتی پرند کا نام جس کی چونچ میں بہت سے سوراخ بتائے گئے ہیں اور ان میںسے ہوا کے گزرنے سے طرح طرح کے ُسر نکلتے ہیں ، بوڑھا ہونے پر یہ لکڑیاں جمع کرتا اور اپنے ُسروں سے ان میں آگ لگا کر جل بھن کر راکھ ہو جاتا ہے ، اس راکھ میں سے ایک انڈا نکلتا ہے جس سے پھر ویسا ہی پرندہ پیدا ہو جاتا ہے ، یہ بھی کہتے ہیں کہ حکما نے علم موسیقی اس کی آوازوں سے نکالا ہے ، ققنس ، دیپک لات ۔
جو موسیقار نے منقار کھولا
تدرد و ارغنون سو رنگ بولا
(۱۷۹۷ ، عشق نامہ ، فگار ، ۱۷۵) ۔
ہوا میں خاک جل کر عشق میں اس آتشیں خو کے
عجب کیا خاک سے میری جو موسیقار ہو پیدا
(۱۸۵۸ ، سحر (نواب علی خان) ، بیاض سحر ، ۱۰۸) ۔
صداے رعد سے مل کر ہر ایک قطرئہ آب
ہوا میں ہنس بنے ہنس سے ہو موسیقار
(۱۸۷۳ ، کلیات قدر ، ۳۱) ۔
ماہرانِ فن موسیقی یعنی اساتذہ نے ایک ایسے عجیب و غریب پرند کا سراغ لگایا ہے جو کوہ قاف میں پایا جاتا ہے جس کو عربی میں ققنس یا ققنوس اور موسیقار بھی کہتے ہیں ۔ (۱۹۳۶ ، تحفہء موسیقی ، ۳) ۔
(۱۸۷۳ ، کلیات قدر ، ۳۱) ۔
۲۔(i) حکیم ابوحفص سعدی کا ایجاد کردہ منھ سے بجانے کا ایک باجا جس میں چھوٹی بڑی نلیاں مثلث کی شکل میں باہم جڑی ہوتی ہیں اور ان سے مختلف آوازیں نکلتی ہیں (عموما ً) چرواہے یا درویش استعمال کرتے ہیں ۔
ہر استخواں سینے کا ہے مانند نے فریاد میں
رکھتا ہوں دائم بر منیں تجھ غم کے موسیقار کوں
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۱۴۷) ۔
ڈھولک ستار و طبلہ چنگ و رباب و قانون
سب بج رہے ہیں باجے تا موسیقار ہولی
(۱۸۰۱ ، جوشش ، د ، ۲۳۹) ۔
ذائقہ پاتا ہے ذوقِ بے خودی سے اہلِ حال
شوق میں جب نغمہ زن ہوتا ہے موسیقارِ روح
(۱۸۷۳ ، مناجات ہندی ، ۳۰) ۔
موسیقار اس آلہ کو کہتے ہیں ، جس سے راگ نکالے جاتے ہیں ۔
(۱۸۷۳ ، مناجات ہندی ، ۳۰) ۔
(ii) منھ سے بجانے کا ایک ولایتی باجا ، آرگن (Pandeampipe)
( پلیٹس)
۳۔ (مجازاً) موسیقی کا ماہر ، گانے والا ، گویا ، گلو کار ۔
احتساب اس کے سے گو محفل کفار بھی ہو
ذکر تحریم مزامیر کرے موسیقار
(۱۸۵۱ ، مومن ، ک ، ۲۰۶) ۔
رقاص اور سازندے اور نوازندے موسیقار ۔۔۔۔۔ ان میں بعضوں کا روزینہ تھا اور منصب بھی ان کو میسر تھا ۔
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۲۹۴) ۔
بڑے بڑے موسیقار دولت آفریں نہیں ہیں ۔
(۱۹۴۶ ، معاشیات قومی ، ۲۱۵) ۔
ایک مقرر میں صوتی حسن جس خوبی سے ہو گا اس کی فنی چابک دستی بڑھے گی ، آواز کو ترتیب دینا زبان کی معرفت حاصل کرنے سے کم نہیں ، خطیب و موسیقار کی آواز میں فرق یہ ہے کہ موسیقار الاپتا ہے اور خطیب بولتا ہے ۔
(۱۹۷۵ ، شورش کاشمیری ، فن خطابت ، ۴۵) ۔
۴۔ موسیقی ترتیب دینے والا ، دُھن تیار کرنے یا ساز بجانے والا ۔
کوئی گلوکار یا موسیقار ریڈیو ٹیلی ویژن یا پردئہ سیمیں پر ۔۔۔۔۔ مظاہرہ کرے ۔
(۱۹۸۵ ، تخلیقات و نگارشات ، ۲۴۸) ۔
اس میں کوئی قتل ۔۔۔۔ نہیں ہوا ، جھگڑے فساد سے محروم ، کسی ایکٹر ، کسی پہلوان ، کسی موسیقار کا شور نہیں تھا ، بس ملک کے مشہور شعراء آئے تھے ۔
(۲۰۰۰ ، وفا کر چلے ، ۴۶۱)
[ موسیقی (بحذف ی) + ار ، لاحقہء نسبت ] ۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .