گویا بادشاہ زادے کا دل تو ہے کسان اور تن اس کا ہوا کھیت.
(۱۷۴۶، قصّۂ مہر افروز و دلبر، ۱۱۲).
میں وہ کسان ہوں کھیتی پہ برق نے جس کی
دعا جو مین٘ھ کے لیے کی تو آگ برسائی
حسرت سے دیکھتے ہیں سوئے آسماں کسان
بادل کا نام کو نظر آتا نہیں نشان
(۱۹۲۹، مطلعِ انوار، ۱۲۶).