(i) وہ چیز جو لکھی ہوئی ہو ، مکتوب ، کتابت ؛ تحریر ۔
اس بات میں رضا مندی میری ہے ، بلکہ اے نسخہ اوسی واسطے تحریر ہوا ، مسطور کیا گیا ہے ۔
(۱۶۹۷ ، پنج گنج ، ۱۵) ۔
قصہء عشق کا مشتاق ہوں کوئی مجہ کوں سناؤ
نسخہء لیلیٰ و مجنوں ہے میرے کام کی بات
(۱۷۳۹ ، کلیات سراج ، ۲۲۲) ۔
جزکش نسخہء دل کون ساہے طفل کہ آج
پھیر دیکھوں ہوں یہ اوراق میں کچھ درہم سے
۱۷۹۵ ، قائم ، د ، ۱۳۹) ۔
کسی نسخہ میں پڑھے تھا وہ مقام دلنوازی
مجھے آتے ہی جو دیکھا ورق کتاب اولٹا
(۱۸۰۹ ، جراء ت ، د ، ۱۰۱)
بعد ازاں نسخہ بہار دانش دیکھا اور بید پنجم کی ورق گردانی کی ۔
(۱۸۹۲ ، خدائی فوجدار ، ۲ : ۲۴۵)
خلیفہء اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں جو پہلا نسخہ کلام اﷲ کا جمع کیا وہ ان ہی کی امانت تھی ۔
(۱۹۱۸ ، امت کی مائیں ، ۹۰)
۔ اس کے نسخہ میں اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی ۔
(۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۴ : ۷۳)
۔ مگر ان مثنویوں کا ڈرامائی انداز کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہے ۔
(۱۹۹۰ ، اردو ڈراما کی مختصر تاریخ ، ۶۷)
(ii) کتاب ، رسالہ ؛ کسی قلمی یا مطبوعہ کتاب کی ایک جلد ۔
نسخہ طرفہ عبرت گاہ ہے اور بے ثباتی عالم پر گواہ
(۱۸۴۹ ، آثار الصنادید (دیباچہ) ۲)
۔ خطیب بغدادی کا ایک پاکیزہ نسخہ میری نظر سے گزرا ۔
(۱۸۹۴ ، رسالہ تہذیب الاخلاق ، ۲ : ۷۷)
انہی کی ایک کتاب ہے بزم آخر ۔۔۔۔۔ ایڈورڈ پارک سے فراغت پاکر ادھر سے گزریئے تو ایک نسخہ خریدتے جائیے
۱۹۵۸ ، پطرس ، تخلیقات پطرس ، ۲۱۱)
میرے پیش نظر اس کتاب کا جو نسخہ ہے اس کا سرورق ضائع ہو چکا ہے ۔
(۱۹۹۱ ، تحقیق نامہ ، ۳۵۳)
۲۔ کسی نظم یا شعر کا مصرع یا لفظ جو کسی دوسرے ایڈیشن میں مختلف ہو ، متبادل متن
ماخوذ : فرہنگ آصفیہ)
۳۔ (i) کاغذ یا وہ پرچہ جس پر دوائیں ، وزن اور ترکیب استعمال لکھ کر مریض کو دیتے ہیں ، طبیب کی مجوزہ ادویہ و ترکیب استعمال پر مشتمل ہدایت نامہ ۔
دیا نسخہ تشخیص کر کر مرض
یہ نسخے میں میری شفا تھی غرض
(۱۷۳۹ ، کلیات سراج ، ۷۵)
حکیموں نے قوت دل اور خلل دماغ کے واسطے نسخے لکھے ۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۰۴)
اس نسخے کو میاں خوجی نے پنساری کی دکان پر بھیجا ادویہ بندھ کر آگئیں
(۱۸۸۰ ، فسانہء آزاد ، ۱ : ۱۸۳)
نسخہ تیار ہوگیا، کاغذی پرزا تھا، دوا فروش نے پڑھ کر دو شیشیاں دیدیں
(۱۹۱۲ ، سی پارئہ دل ، ۱ : ۸۰)
کسی کو بھی ڈاکٹر علاج کے لیے نسخے میں لکھ دے کہ ٹویوٹا کار میں گھمایا جائے تو کیا ہوگا ۔
(۱۹۸۹ ، دلی دور ہے ، ۲۲۴)
(ii) تجویز کردہ دوا ، مرض کا علاج نیز وہ مفردات جو کسی دوا یا مرکبات میں پڑتے ہیں ۔
اماں بچوں کی جان پر رحم کیجئے
یہ نسخے میں دو گھونٹ اور باقی ہیں انہیں پی لیجئے
(۱۹۰۰ ، قتل نظیر ، ۴) ۔
موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے درد
چارہ گر دیوانہ ہے میں لادوا کیونکر ہوا
(۱۹۲۴ ، بانگ درا ، ۱۰۳)
حکیم وہ نہیں جو ہر قسم کے حالات میں ایک ہی نسخہ پلاتا رہے ۔
(۱۹۷۶ ، علوم القرآن ، ۱۶۰)
۔ (iii) کسی مرکب کے تیار کرنے کے اجزا اور اس کی ترکیب ۔
ہر نسخہ لذتِ جہاں کا
انکھیاں میں تری سواد دستا
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۴)
۔ داروغہ میخانہ سے کہا کہ شراب کے تیز اور عمدہ کرنے کا نسخہ یہ تیار کیا ہے اس سفوف کو ملادو
۸۸۲ ، طلسم ہوشربا ، ۱ : ۴۱۴)
وقارنے گرم مسالہ کے نسخے والی مرغی پکائی
(۱۹۵۶ ، رادھا اور رنگ محل ، ۳۰)
۔ شہد جہاں قوت بخش غذاء اور لذت و طعم کا ذریعہ ہے وہاں امراض کے لیے نسخہ شفاء بھی ہے
(۱۹۷۲ ، معارف القرآن ، ۵ : ۳۵۲)
۴۔ ترکیب ؛ ڈھنگ ، کسی عمل یا ترکیب کا ہدایت نامہ ۔
الٰہی رکھ مجھے تو خاکِ پا اہل معانی کا
کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۳۱) ۔
اُس کے آگے کروں سو کیا میں بیاں
نسخہء سامری بھی تھا حیراں
(۱۷۹۱ ، حسرت (جعفر علی) ، طوطی نامہ ، ۸۰) ۔
ہے یہ نسخہ خوب ظفر کام آئے گا اس کو یاد رکھو
کوئی برائی لاکھ کرے پر تم کو بھلائی واجب ہے
(۱۸۵۴ ، کلیات ظفر ، ۳ : ۱۱۹)
نیند لانے کا آسان نسخہ یہ ہے کوئی سخت بور قسم کی کتاب پڑھنے لگیں
(۱۹۶۷ ، پس پردہ ، میرزا ادیب، ۱۱۸)
تصوف آدمی کو اپنے آپ سے ملانے کا نسخہ اور راستہ ہے ۔
(۱۹۹۲ ، اسلامی تصوف اہل مغرب کی نظر میں ، ۱۵)
۔ (کنایۃً) ادنیٰ درجے کا آدمی
(نوراللغات)
۔ مرکب ، دو یا زائد اشیا سے مل کر بننے والی چیزنیز عجیب شخص ، عجیب ہستی
۔ مجید لاہوری صاحب کو خدا نے شرافت اور شرارت کا جو نسخہ بنایا ہے وہ دل کی گرمی اور دماغ کی ٹھنڈک کے لیے بہترین نسخہ ہے ۔
(۱۹۸۱ ، پطرس ایک مطالعہ ، ۷۱)
[ع]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .