( تاریخی ا ُصول پر )


نَظم (فت ن ، سک ظ) امث  

(i) لڑی ، سلک ، مالا ، موتیوں کو تاگے میں پرونا ۔
(ii) ترتیب ، ربط و ضبط ، تسلسل ۔
(ادب) عبارت کا ربط ، ترتیب ، جملے کی ساخت ، اسلوب ، اندازبیان ۔
مفسرین کہتے ہیں کہ اگرچہ نظم اس آیت کا بطور جز کے ہے ، مگر اس سے مراد امر ہے ۔
(۱۹۶۶ ، تفسیرالقرآن ، ۴ : ۳۹)
موزوں کلام ، شاعری ، شعر گوئی ، شعر (نثر کے بالمقابل) ۔
شاعری کی وہ صنف جو کسی ایک موضوع پر ہوتی ہے اور اس میں مسلسل اسی پر اظہار خیال ہوتا ہے برخلاف غزل کے اس میں ہر شعر بالعموم ہم قافیہ ہوتا ہے بعض صورتوں میں ہم ردیف بھی ہوتا ہے اس صنف کے لیے کوئی مخصوص بحر مقرر نہیں ۔
۔ ۱۔ انتظام ، بندوبست ، اہتمام ، انصرام ؛ تدبیر مملکت ، حکمرانی کا قاعدہ ؛ حسن انتظام ، تنظیم (اب عموما ً نسق کے ساتھ مستعمل ؛ جیسے : نظم و نسق) ۔
(۱۸۸۸ ، دیوان شعور ، ۲۰۲) ۔