۔ قرآن مجید لفظ بلفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے قلب پر القا ہوا تھا اور وہی الفاظ اور اسی نظم سے جس طرح القا ہوئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم نے لوگوں کو پڑھ سنایا ۔
(۱۸۹۲ ، مکتوبات سرسید ، ۱۴۳)
عربی مصدر نظم کے معنی ملانا ، ترتیب دینا اور نظم کرنا ہیں ۔
(۱۹۲۶ ، مقالات حافظ محمود شیرانی ، ۵ : ۶۷۷)
یہ طریقہ نظم قرآن کے خلاف ہے ۔
(۱۹۶۷ ، مجموعہء قوانین اسلام ، ۲ : ۳۹۱)
(ادب) عبارت کا ربط ، ترتیب ، جملے کی ساخت ، اسلوب ، اندازبیان ۔
بعض معتزلہ کے نزدیک قرآن مجید کا نظم کلام (اسٹائل) معجزہ ہے ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۴۶) ۔
مفسرین کہتے ہیں کہ اگرچہ نظم اس آیت کا بطور جز کے ہے ، مگر اس سے مراد امر ہے ۔
(۱۹۶۶ ، تفسیرالقرآن ، ۴ : ۳۹)
مفسرین کہتے ہیں کہ اگرچہ نظم اس آیت کا بطور جز کے ہے ، مگر اس سے مراد امر ہے ۔
(۱۹۶۶ ، تفسیرالقرآن ، ۴ : ۳۹)
موزوں کلام ، شاعری ، شعر گوئی ، شعر (نثر کے بالمقابل) ۔
نظم لکھی سب موزوں آن
یوں سب ہندوی کر آسان
(۱۵۰۳ ، نوسرہار (اردو ادب ، ستمبر ، ۵۷ : ۵۱)
یو عجب نظم ہور نثر ہے ، جانو بہشت میں کا قصر ہے
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۳)
ہر سطر نثر اس کے کی شاہراہ وادی ہدایت کی ہے اور ہر بیت نظم اوس کے کی بادشاہ سر پر شہادت کی
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۳۷) ۔
نہ رکھو کان نظم شاعران حال پر اتنے
چلو ٹک میر کو سننے کہ موتی سے پروتا ہے
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۳۰۶)
سبق خواہ نظم ہو یا نثر مدرس کو اس طرح پڑھانا چاہیے کہ پہلے سب لڑکوں کو مستعد اور متوجہ کرے ۔
(۱۸۸۶ ، دستورالعمل مدرسین دیہاتی ، ۱۷)
نظم و نثر کی معرکہ آرائی ہوچکی تو سفارت نے اعتراف کیا کہ دربار رسالت کے خطیب اور شاعر دونوں ہمارے شاعر اور خطیب سے افضل ہیں ۔
(۱۹۱۴ ، سیرۃ النبیؐ ، ۲ : ۳۷)
مضامین شاعرانہ نثر میں یا نظم میں کہنا ان لوگوں کا طریقہ ہے
(۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۶ : ۵۳۸)
شاعری کی وہ صنف جو کسی ایک موضوع پر ہوتی ہے اور اس میں مسلسل اسی پر اظہار خیال ہوتا ہے برخلاف غزل کے اس میں ہر شعر بالعموم ہم قافیہ ہوتا ہے بعض صورتوں میں ہم ردیف بھی ہوتا ہے اس صنف کے لیے کوئی مخصوص بحر مقرر نہیں ۔
۔ جیتے فہم داراں جیتے گن کاراں ہوے سن آج مگن کوئی اس جہاں میں ہندوستان میں ہندی زبان سوں اس لطافت اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گلا کر یوں نہیں بولیا
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۱) ۔
سو وہ کیا ہے جسے نظم اب کہوں میں
یہی لازم ہے بس اب چپ رہوں میں
(۱۷۹۵ ، فرسنامہء رنگیں ، ۴)
۔ میں لکچر سے پہلے تبرکا ً اپنی نظم پڑھ لیا کرتا ہوں ، اگرچہ وہ نظم بودی پھسپھسی اور نامربوط سی ہوتی ہے
(۱۹۰۹ ، مجموعہء نظم بے نظیر ، ۳۱)
کثر ہندوؤں کو دیکھو گے کہ اپنی نظم کی تعریف میں مبالغہ کرتے ہیں
(۱۹۴۱ ، کتاب الہند (ترجمہ) ، ۱ : ۱۸۰)
شاعری کے مطالعہ میں معروضی زاویے کو بروئے کار لانا چاہیے تاکہ توجہ نظم کے معنی پر مرتکز ہوسکے
۱۹۸۹ ، تنقید اور جدید اردو تنقید ، ۴۶)
۔ ۱۔ انتظام ، بندوبست ، اہتمام ، انصرام ؛ تدبیر مملکت ، حکمرانی کا قاعدہ ؛ حسن انتظام ، تنظیم (اب عموما ً نسق کے ساتھ مستعمل ؛ جیسے : نظم و نسق) ۔
(۱۸۸۸ ، دیوان شعور ، ۲۰۲) ۔
ہوا ہے نظم ایسا عمدہ اوس کی بادشاہت میں
کہ دیکھا دوسری جا پر کسی نے اب یہ کمتر ہے
۱۹۸۹ ، تنقید اور جدید اردو تنقید ، ۴۶)
اسباب پہ گر نظم جہاں کا ہے مدار
اس قوم کا جیتنا ہے حالی دشوار
(۱۸۹۲ ، دیوان حالی ،۱۱۶)
یہاں عرب کے نظم و نسق کے متعلق عام جزئی باتیں بیان کرنی منظور ہیں ۔
(۱۹۱۴ ، سیرۃ النبیؐ ، ۲ : ۵۶)
یہ سن کر انھوں نے کہا ٹھیک ہے مگر جماعت کا نظم بھی کوئی چیز ہے
(۱۹۸۳ ، جرم ظریفی ، ۲۸۶)
[ع : (ن ظ م)]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .