یو پھرتا گھر کے اُس پاس اسے گھر میں جاچتی نند ہور ساس ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۲۶) ۔
نند اور ساس سے لڑتی ہیں یا نیں
خصم کو جوتیاں جڑتی ہیں یا نیں
ساس ایسی کہ جو احمد مختار کی جائی
نند ایسی کہ جس عابدہ کا آپ سا بھائی
ساس ، نندیں ، دیورانیاں ، جٹھانیاں ایسی شرارتیں کرتی ہیں جن سے لڑکی کی زندگی دو بھر ہو جاتی ہے ۔
(۱۹۲۱ ، اولاد کی شادی ، ۲۲) ۔
بی بی جی وہ واپس آگئی ہے میری نند نے خود اسے دیکھا ہے
(۱۹۶۲ ، آنگن ، ۵۳) ۔
آگے پیچھے کوئی نہ تھا نہ ساس کا چکر تھا نہ نندوں کا ٹنٹا ۔
(۱۹۹۹ ، آئیڈیل منافق ، ۱۷۵) ۔