توں صاحب ملک توں صاحب مملکت ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۵۷) ۔
چڑیا ہات تج عشق کا مملکت منج
سو عشاق میں شہ اپس کوں کوایا
کچھ ٹھکانا کفر کا ہے مملکت میں عشق کے
مسجدیں ڈھا ڈھا کے یاں تعمیر بت خانے ہوئے
جس روز سے اس مملکت میں تشریف لائے بڑے بڑے کام سرانجام پائے ۔
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۳) ۔
چونسٹھ برس سات مہینے تلک مملکت کو آباد رکھا ۔
(۱۸۰۵ ، آرائش محفل ، افسوس ، ۲۹۸) ۔
ماہی گیر نے کہا مملکت پارس کا بادشاہ جذام کے عارضہ میں مبتلا تھا ۔
(۱۸۶۲ ، شبستان سرور ، ۱ : ۲۷) ۔
رعایا باہم اکتساب معیشت و سکونت مملکت و حالت اطاعت میں شریک ہیں ۔
(۱۸۸۵ ، تہذیب الخصائل ، ۲ : ۵۵) ۔
وزیر ۔۔۔۔۔ نے مشورہ دیا کہ اتنی بڑی سلطنت رفیعہ و مملکت جلیلہ کا چھوڑ کر جانا ۔۔۔۔۔ عقل دوربیں کے خلاف ہے ۔
(۱۹۰۱ ، الف لیلہ ، سرشار ، ۲) ۔
حضرت ابراہیم ادہمؒ نے دس برس تک کامیابی کے ساتھ مملکت کا نظم و نسق چلایا ۔
(۱۹۹۴ ، صحیفہ ، لاہور ، جولائی ، ستمبر ، ۱۵) ۔