کر تو ابواب عشق کے مفتوح
توٹے تارے میں ہر صباح فتوح
ارشاد ہوا کہ درِ توبہ و استغفار مفتوح رکھوں گا ۔
(۱۸۴۵ ، احوال الانبیا ، ۱ : ۱۰۴) ۔
کل دنیاوی ترقیوں کے دروازے ہمارے لیے مفتوح تھے ۔
(۱۸۹۹ ، رویائے صادقہ ، ۲۱۰) ۔
ارشاد ہوا کہ عراق مفتوح ہو گا ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۶۳۵) ۔
دوسروں کی حق تلفی انھیں ذرا متاثر نہ کرتی تھی ، غلاموں ، مفتوحوں ، کم زوروں اور غیروں کے حقوق ہی کچھ نہیں تھے ۔
(۱۹۸۳ ، وفا کر چلے ، ۵۷۰) ۔
شاکیہ منی نے کہا تھا کہ فتح نفرت پیدا کرتی ہے کیوں کہ مفتوح دکھ کی نیند سوتے ہیں ۔
(۱۹۹۳ ، قومی زبان ، کراچی ، مارچ ، ۳۷) ۔
یہ سبک رو کہ بیان تگ و دو میں اس کے
منھ سے مفتوح نکلتے ہیں حروفِ مضموم
اس حرف کو جس پر زبر ہو مفتوح و منصوب ۔۔۔۔۔ نامزد کرتے ہیں ۔
(۱۸۷۳ ، عقل و شعور ، ۴۴) ۔
ایسے ہم شکل سہ حرفی ، جن کا اول بہرسہ حرکات آتا ہے ، بالترتیب اول مفتوح ، پھر مکسور اور پھر مضموم دیئے ہیں ۔
(۱۹۳۳ ، مقالات حافظ محمود شیرانی ، ۸ : ۶۱) ۔
اردو اور کھڑی بولی میں نون بطور سابقہ آتا ہے تو وہ مفتوح ہوتا ہے یا مکسور ۔
(۱۹۹۲ ، قومی زبان ، کراچی ، نومبر ، ۳۷) ۔
سورج سوا نیزے پر اتر آیا ہے اور کرنوں کے ۔۔۔۔۔ کوڑے خمیدہ جسموں کے مفتوح برہنہ کو لہوں پر مسلسل برستے رہیں گے ۔
(۱۹۸۶ ، نگار ، کراچی ، جولائی ، ۷۴) ۔