کہ بہتے تھے واں کالرے نیر کے
اتھے جھاڑ انار ہور انجیر کے
( ۱۶۰۹، قطب مشتری ، ۵۹ ).
خربوزے سے فالیزیں معمور اور سیب انار شفتالو انجیر انگور وغیرہ کا باغوں میں نہایت وفور .
( ۱۸۰۵ ، آرائش محفل ، افسوس ، ۱۶ ).
یہ نہیں ہوسکتا کہ انار کے درخت سے آم کا پھل . . . پیدا ہو .
( ۱۹۲۳ ، سیرۃ النبی ، ۳ : ۱۱۹ ).
ہوی سار شبرنگ ترنگ پروو نار
دھویں میں اچھیں جیوں جھمکتا انار
وہ جلوہ آہ دل پر شرار میں دیکھا
نہ پھلجھڑی میں نہ ہم نے انار میں دیکھا
چھوڑے انار لاکھ کا گھر خاک کر دیا
خود بوے گل نے دامن گل چاک کر دیا
بوسے آبدار اور آتشیں روکے لب و رخسار پر دیے چمٹ گیا سینے پر سینہ رکھا اور انار ملنے لگا.
( ۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۶ : ۲۵۱ ).