اگر تیری نظر کام اپر ہے تو سدا صدق
اسوں لا کر اُسے یاد کر وے آرام دویگا
پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے
جو پہنچاوے حسینؓ ابن علیؓ کوں
کہے میرا یہ غم وے سے ولی کوں
وے نصیب کہاں کہ اپنا کاسہء اُمید ، صہباے کامرانی کے سے لبریز ہو تو اپنے شغل میں رہ ۔
(۱۷۷۵ ، نو طرز مرصع ، تحسین ، ۱۵۲) ۔
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
تسلی دے کر وے رخصت ہوئے ۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۲۰) ۔
وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر
بخلاف اور پیغمبروں کے اُنھوں نے وے مقامات جو دیکھے نہیں ، دبدبہ اُن کے دل پر بیٹھا ہے ۔
(۱۸۵۵ ، مرغوب القلوب فی معراج المحبوب ، ۲۵) ۔
مثلاً ’’وے‘‘ کہ یہ گنوارو بولی ہے ’’وہ‘‘ یہ ٹھیٹ اُردو ہے ۔
(۱۹۵۹ ، خطوطِ غالب ، ۲۴۰) ۔
بھولو ہنسا ، فیر وے تو لنگور تھا ۔
(۱۹۹۸ ، آگے سمندر ہے ، ۱۰۷) ۔
’’ وہ ‘‘ کی جمع ’’ وے ‘‘ تھی ’’ اس نے ‘‘ کی جگہ ’’ اُن نے ‘‘ بولا جاتا تھا ، ’’ کس نے ‘‘ کی جگہ ’’ کن نے ‘‘ ۔
(۲۰۰۳ ، اقبال کی لغوی اور لسانی بحثیں ، ۲۹) ۔