چمگادڑ ایسی بے کار ، بے مصرف ، کمترین ہستی اشاروں ہی اشاروں میں ہماری سمتیں سیدھی کرتی رہتی ہے ۔
(۱۹۸۹ ، مصروف عورت ، ۸۶) ۔
وہ اس عجیب الخلقت ہستی کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے ہوش میں آئے تو وہ مخلوق تو غائب ہوچکی تھی ۔
(۲۰۰۶ ، داستاں کہتے کہتے ، ۲۲۵) ۔
۴۔ (تصوف) وجود حق ، ذات باری تعالیٰ
(ماخوذ : مصباح التعرف) ۔
۵۔ حیات ، زندگی ، (خصوصا) دنیاوی زندگی ۔
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۲۹۱) ۔
ہستی کا اپنے کر نہ بھروسہ حباب وار
تعمیر بے بنا ہے یہ اور خیمہ بے طناب
(۱۸۵۴ ، ذوق ، د ، ۳۰۱) ۔
لہو کی آب ہے جمہور کے پسینوں میں
قضا کا رنگ ہے ہستی کے آبگینوں میں
(۱۹۶۳ ، گفتنی و ناگفتنی ، ۱۲۸) ۔
کاٹ رہا ہوں ایسے امجد یہ ہستی کی رہ
بے پتواری ناؤ پہ جیسے رات سمندر میں
(۱۹۸۲ ، فشار ، ۷۹) ۔
ان کی نظر میں نہ تو ہستی وابستہء قانون ہے اور نہ کائنات ۔
(۱۹۹۶ ، اردوئے معلی ، کراچی ، جون ، ۲۸) ۔
۶۔ حقیقت ، اصل ۔
انسان کی ہستی ہی کیا ہے بہت سے بہت جیا تو ساٹھ ستر برس ۔
(۱۸۹۹ ، رویائے صادقہ ، ۹۳) ۔
ریعاد کے خزانے کے آگے توحیل کا خزانہ کچھ ہستی نہیں رکھتا ۔
(۱۹۰۴ ، خالد ، ۱۰۱) ۔
ترکوں کی نادر شاہ کی نظر میں کوئی ہستی نہ تھی ۔
(۱۹۲۶ ، شرر ، مضامین ، ۳ : ۱۷۲) ۔
اس نے بہت عجز اور انکسار سے کہا کہ اس کی کیا ہستی ہے ۔
(۱۹۹۲ ، قومی زبان ، کراچی ، مارچ ، ۲۲) ۔
۷۔ بساط ، حیثیت ، مجال ، تاب ، طاقت ۔
آپ اطمینان رکھیں ہماری موجودگی میں دشمن کی یہ ہستی نہیں ہے کہ اس باٹری کو چھین لے ۔
(۱۹۰۷ ، نپولین اعظم (ترجمہ) ، ۴ : ۲۳۴) ۔
۸۔ دولت ، ثروت
(پلیٹس ؛ جامع اللغات ؛ مہذب اللغات) ۔
۹۔ ذات ، شخصیت ۔
ہستی کوں آپس کے پائیا جد
تد کا یو حقیقت محمدؐ
(۱۷۰۰ ، من لگن ، ۱۳) ۔
قائم تو اپنی ہستی نہ سمجھا کہاں تلک
اے خانماں خراب کوئی یہ بھی ہوش تھا
(۱۷۹۵ ، قائم ، د ، ۶) ۔
سرسید کی ہستی بھی ایسی ہی تھی ان کی زندگی سے ہمیں بہت سے بے بہا سبق ملتے ہیں ۔
(۱۹۳۵ ، چند ہمعصر ، ۳۳۶) ۔
اس کی ہستی چٹخ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گی اور اس نے کہ علم و حکمت کے موتی کتابوں سے چن چن کر اپنی شخصیت کی تعمیر کی تھی ۔
(۱۹۴۷ ، قصہ کہانیاں ، ۴۱) ۔
سب سے بڑی ہستی یعنی فرعون کے ہاتھوں ہی اس کے گھر میں یہ کام اس طرح لیا گیا کہ وہ اس سے بے خبر تھا ۔
(۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۶ : ۸۰) ۔
آپ چاہیں تو اس سے ڈاک کا ایک لفافہ بنالیں ، چاہیں تو اس پر اپنی کسی انتہائی عزیز ہستی کو محبت کے دو حرف لکھ کر بھیجیں ۔
(۱۹۸۹ ، سمندر اگر میرے اندر گرے ، ۵۶) ۔
مگر ان تخلیق کاروں میں بھی کبھی نہ کبھی ، کہیں نہ کہیں ، کوئی نہ کوئی ایسی ہستی ضرور جنم لیتی ہے جو اپنی عمر خود بسر کرتی ہے ۔
(۱۹۹۱ ، ساختیات اور سائنس ، ۱۹) ۔
ان مقدس ہستیوں کے سامنے ہم کیا اور ہماری حیثیت کیا ہے ۔
(۲۰۰۵ ، لطائف قرآنی ، ۷۷) ۔
۱۰۔ خود بینی ، خود پسندی ، اظہار انانیت
(ماخوذ : جامع اللغات ؛ نوراللغات)
[ ف ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .