اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
نغمہ وہ آواز ہے جو کسی مخصوص مقدار زمانہ تک مخصوص بلندی و پستی کے ساتھ قائم رہتی ہے ۔
(۱۹۱۴ ، ہندوستانی موسیقی ، ۴۵) ۔
ایک نغمہ محض ان سروں کا مجموعہ نہیں جن سے وہ بنا ہے ۔
(۱۹۴۰ ، علم الاقوام ، ۱ : ۲۴۸) ۔
’’ بندے ماترم ‘‘ کے نغمہ کو قومی ترانے کی حیثیت سے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پر بھی مسلط کیا جائے ۔
(۱۹۸۹ ، آثار و افکار ، ۶۶) ۔
جابجا بینڈ کے دستے سریلے نغموں میں خوش آمدید کا ترانہ بجا رہے تھے ۔
(۱۸۹۹ ، شہنشاہ جرمنی کا سفر قسطنطنیہ ، ۴۶) ۔
قرآن کے پڑھنے میں راگ چھو نہ جائے ورنہ سننے والوں کی طبیعتیں معروف نغمہ ہوں گی ۔
(۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ،۳ : ۱۴۸) ۔
ہندی گانوں کا دار و مدار سر ، لے اور تال سم پر ہے فارسی میں اسی کو نغمہ ، ادارہ اور اوزان کہتے ہیں ۔
(۱۹۴۰ ، حیات امیر خسرو ، ۱۸۵) ۔
آج کل ہے نغمہء بلبل کے سننے کی بہار
موسم گل آگیا سر سبز گلشن ہوگیا
نالوں کے زمزموں سے کسی دم نہیں فراغ
نغمے خوش آتے ہیں کسے چنگ و رباب کے
فریاد جگر ، نغمہء َنے ، نالہء بلبل
دل کش ہو کسی طرح کی ہو کوئی صدا ہو
یہ نغمہ فصل ِگل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں ، لاالہ الا اللہ