۲۔ (i) پورا پڑنا ، کفایت کرنا (بالعموم نہ کے ساتھ مستعمل) ۔
خرچ عالی ہے رند مسرف ہوں
گنج قاروں ہو تو وفا نہ کرے
(۱۸۵۴ ، ریاض مصنف ، ۳۹۸) ۔
اور اس طرح اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ زرِ سُرخ سے پُر کرنے کی آرزو مند ہو تو سلیم قارون کا خزانہ بھی وفا نہیں کرسکتا ۔
(۱۹۲۲ ، انارکلی ، ۶۹) ۔
(ii) نباہ کرنا ، ساتھ دینا ، دوستی کا پورا کرنا ۔ نباہ ، نبھاؤ ، ساتھ ۔
عاجز ہوا اِس فن منے سب ساحراں کا سحر
دو تن گندناں تھے ہوا ہے سب ہی وفا تلخ
(۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۲ : ۸۵) ۔
رہا اوس بے وفا کے غم میں جیتا
الٰہی عمر نے کیوں کر وفا کی
(۱۸۶۱ ، دیوان ناظم ، ۱۴۸) ۔
چاہتا تھا کہ حمیرہ کو سینہ سے لگالے مگر ہاتھ نے وفا نہ کی ۔
(۱۹۳۳ ، خدائی راج ، ۶) ۔
میرا بھی ایک ایسا دوست ہے جس نے وطن سے وفا کا عہد پورا کر دکھایا اور آزادی کی خاطر اپنی زندگی کے بیشتر قیمتی سال کڑی آزمائشوں میں گزار دیے ۔
(۲۰۰۴ ، روح کے زخم ، ۴۰) ۔
۳۔ تعمیل ، تکمیل.
(ماخوذ : نوراللغات) ۔
۴۔ (مجازاً) عقیدت مندی ، دیانت.
(نوراللغات) ۔
۵۔ کافی ہونا ۔
وصیت نہیں درست ہے اگر موصی صبی ہو یا مکاتب ہو ، اگرچہ مال بقدر وفا چھوڑ جاوے ۔
(۱۸۶۷ ، نورالہدایہ ، ۴ : ۱۲۵) ۔
۶۔ (ہیئت) اس وقت کو کہتے ہیں جبکہ جاڑے کا خوف دور ہو جاتا ہے ؛ عرصہ.
(ماخوذ : عجائب المخلوقات (ترجمہ) ، ۸۰) ۔
۷۔ (مجازاً) ثبات ، قیام ، ٹھہراؤ ، قرار ۔
کرنے سے میں جفا کے تھکادوں گا یار کو
کرتی ہے عمر اور کوئی روز گر وفا
(۱۸۲۶ ، معروف ، د ، ۳۹) ۔
عمروں کو وفا نہ زمانہ کو قیام ، روز روز صبح اور روز روز شام ۔
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۴۳) ۔
۸۔ (تصوف) عنایت اَزلی کو کہتے ہیں جو بلا اکتساب عہد کے اس پر حق کی جانب سے مرحمت ہو.
(اصطلاحات صوفیہ) ۔
[وفاء (ع) کا مفرس]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .