اوس کی قدرت میں کچ مشکل نہیں کہ اس کے من سنگھار و من میں اتپت ۔۔۔۔۔ قادر ہے ۔
(۱۵۸۲ ، کلمۃالحقائق ، ۳۰) ۔
از بسکہ زندگی میں یوں محو ہوں ولیؔ میں
مشکل ہوا اجل کوں کرنا سراغ میرا
گرمیاں میری طرح سے آتش گل نے جو کیں
پاؤں رکھا باغ میں بلبل کو مشکل ہوگیا
تری الفت میں مشکل ہے تو اتنی بات مشکل ہے
فغاؤں کا اثر کرنا ، دعاؤں کا اثر ہونا
(۱۹۳۶ ، شعاعِ مہر ، ناراین پرشاد ورما ، ۷)
جانسن کی اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔
(۱۹۸۹ ، تنقید اور جدید اُردو تنقید ، ۳۶) ۔
بطور اصطلاح کے رومانویت کے معانی اور مفہوم کا تعین فن و ادب کی تاریخ میں نہایت ہی مشکل اور الجھن کا باعث رہا ہے ۔
(۱۹۹۸ ، صحیفہ لاہور ، جولائی تا ستمبر ، ۲۵) ۔
گر ہو نہ دست فکر میں فہم رسا جریب
تو اسی غزل کی ماننی مشکل زمین ہے
(۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۱ : ۴۲۷) ۔
جس چیز کو اﷲ تعالیٰ نے وسیع اور سہل کیل تھا اس کو تنگ اور مشکل کر دیتے تھے ۔
(۱۸۶۶ ، تہذیب الاخلاق ، ۳۷۵) ۔
یہ مشکل اور بڑا کام ایک آدمی کے ہونے کا نہیں ۔
(۱۹۷۷ ، خطوطِ عبدالحق ، ۳۱)