شاید کہ دام عشق میں تازہ ہواہے بند
وعدے پہ گل رخاں کے جسے اعتماد ہے
کہوں جو حالت دل یار سے تو کہتا ہے
جو کچھ کہ تو نے کہا میں نے اعتماد کیا
ایک عزیز دوست نے جو انگریزی تصنیفات پر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں انڈین میگزین اینڈ ریویو کا ایک آرٹیکل دکھلایا.
(۱۹۰۹، مقالات شبلی، ۱۰۶:۵)
ہے سراب آب بقا بھی جان میرے اعتقاد
زندگانی پر نہیں ازبسکہ مجکوں اعتماد
پھرا ہے ہم سے رخ اس بادشاہ خوباں کا
کچھ اعتماد نہیں ہے مزاج سلطاں کا
آپ کو جس قوت پر اعتماد تھا آپ اسکو اس تنہائی میں بھی اسی طرح ناصر و مددگار سمجھتے تھے جس طرح فوج و لشکر کے ساتھ
(۱۹۱۴، سیرۃ النبی، ۲۶۱:۲)