سورج رنڈمنڈ دیکھت ات گت کیا ہیبت سوں موں پیلا
فلک کے سر لگے گھیرے رکت سو دیک مقتل کا
مقتل میں گھری تھی بھری اور کھری ہوئی
سب سیں جب آگے تیغ پڑی ہم سری ہوئی
نہیں مقتل سے اس ظالم کاکوچہ کم کہ اب اُس میں
کوئی بے جاں پڑا ہے اور کوئی تلملاتا ہے
پھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیر کامقتل
وہ نہر فرات اور کئی کوس کا جنگل
انگشت بدنداں بیٹھ گئے وہ خنجر پھینک کے مقتل میں
اب ہاتھوں کو مل کر کہتے ہیں جو زخم بھی ہے وہ کاری ہے
کراچی مقتل بن گیا ، لوگ گھر کو بھی قبر سمجھتے ہیں ۔
۱۹۹۸ ، جنگ ، کراچی ، ۲۹ اکتوبر ، ۳) ۔
قصہ مقتل شاہ حسین
(۱۵۰۳ ، نوسرہار (اردو ادب ، ستمبر ، ۱۹۵۷ ، ۲ ، ۶ : ۵۰)) ۔
مقتل کے معنی قتل اور قتل گاہ کے بھی ہیں ۔
(۱۹۶۷ ، بلوغ الارب ، ۲ : ۷۹) ۔
مقتل میں ابو مخنف راوی نے ہے لکھا
تھے منتظر جنگ ادھر سید والا