اُس نور کی خبر کسے معلوم نہیں ، مفہوم نہیں ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۶۳) ۔
ہمیں غیب کی بات معلوم نیں
جو کچھ فہم میں نیں سو مفہوم نیں
اُنہوں نے عزت کے مفہوم کو چند ظاہری باتوں میں منحصر سمجھ رکھا ہے ۔
(۱۸۷۳ ، مکمل مجموعہء لیکچرز و اسپیچز ، ۸۰) ۔
باطنی مفہوم پیدا کرنا اصل میں اُس دستور العمل کو مسخ کر دیتا ہے ۔
(۱۹۱۶ ، مکاتیب اقبال ، ۱ : ۳۵) ۔
اختصار کے طور پر بہرا کہا جاتا ہے اور اس میں گونگے کا مفہوم بھی پوری طرح آ جاتا ہے ۔
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۳ : ۳۸) ۔
ننھی منی بچی تو ابھی شادی بیاہ کے مفہوم سے بھی آشنا نہ تھی ۔
(۱۹۹۰ ، پاؤں کی زنجیر ، ۱۴) ۔