کاٹ دیتا ہے یہ ورق دل کا
سامنے دل ہے اس کے اک چھکا
اسی طرح چوا ، پنجا ، چکا ، ستا ، اٹھا ، نہلا ، دھلا گنتے چلے جاؤ
(۱۹۱۳ ، انتخاب توحید ، ۹۲)
زمین پر یہ چوسر بچھی تھی طاق چشم سے لڑنے کو تین کانے ہو رہے تھے ، بلکہ چھکے اور پو بارہ تھے.
(۱۸۸۸ ، طلسم ہوشربا ، ۳ : ۶۴)
صبح سے شام تک پنجا چھکا چل رہا ہے ، پانسے پھینک رہے ہیں.
(۱۹۱۱ ، نشاط عمر ، ۲۵۲)
آسٹریلیشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں ... جاوید میاںداد نے آخری گیند پر فاتحانہ چھکا لگا کر ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کر دیا.
(۱۹۸۶ ، جنگ (میگزین) ، کراچی ، ۱۹ اپریل ، ۱)
داہنی طرف کے بائیس پیچ یہ ہیں کاٹھا ... چھکا ... چھلاوا.
(۱۸۷۳ ، عقل و شعور ، ۴۳۶)
چھکا کرنے کا طریقہ : چھکا کرے تو پہلے طمانچہ مارے اگر حریف ہاتھ پکڑ لے تو اپنی داہنی ران اور قمر کے درمیان داب کر حریف کا ہاتھ گانٹھ لے اور چھری اس کی کمر پر سے اتار دیوے.
(۱۹۲۵ ، فن تیغ زنی ، ۴۹)
شور پانی کرے ہے رہ رہ کے
اس طرح چھوٹتے ہیں جوں چھکے
چھکا چھوٹا یا تارا ٹوٹا رال اڑا رہا تھا گویا دیپک راگ تھا.
(۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۶ : ۵۱)
آتش بازی کا نمبر آیا ہوائیاں ، چھکے ، لٹو اور ختنگے چلے.
(۱۹۳۰ ، مضامین فرحت ، ۲ : ۴۵)