۔ (ii) کسی چیز کی قوتِ حافظہ میں محفوظ رہنے کی حالت ، حفظ ۔
یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہوگئیں
(۱۸۶۹ ، غالب ، د ، ۱۹۱) ۔
ہے تجھ کو یاد ازبر وہ داستان ساری
لہریں تری ورق ہیں تاریخ کے ہماری
(۱۹۲۹ ، مطلع انوار ، ۲۹)
خلیفہ معز کو ابن طباطبا کا سوال یاد تھا
(۱۹۵۶ ، گفتنی ناگفتنی ، ۱۷)
مجھے اپنے گھر کی پہلی منزل کی کھڑکی سے ورک ہاؤس کے کشادہ صحن میں جھانکنا بھی یاد ہے
(۲۰۰۵ ، جوئندہ یابندہ (ترجمہ) ، ۱۰)
۔ ۲۔ کسی واقعے ، چیز یا نام وغیرہ کو حافظے میں دہرانے کا عمل ، گزری ہوئی باتوں یا لمحات کا تصور ؛ کسی شخص کا خیال ، تصور ، دھیان ۔
جلی یاد کی کرنا ہر گھڑی یک تل حضور سوں ٹلنا نہیں
اٹھ بیٹھ میں یاد سوں شاد رہنا گواہ دار کو چھوڑ کے چلنا نہیں
(۱۲۶۵ ، شیخ بابا فرید الدین شکر گنج ؒ(اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام ، ۱۲)) ۔
نامیں کیتی بندگی تیری نادھرکیتی یاد
دائم کیتی آگل تیرے سلکوں تھے فریاد
(۱۴۹۶ ، شاہ میراں جی ( دکنی ادب کی تاریخ ، ۲۳)) ۔
کیتے یاد دھرتے ہیں نازک نہال
سو دو ہیڑے ہور جھولنے ہور خیال
(۱۵۶۴ ، حسن شوقی ، د ، ۱۳۴) ۔
طمع کوں پیا یاد پانی سوں دھوکر
اپس دل میں تھے ہو بچن کن کہ دھیانی
(۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۱ : ۳۱۸) ۔
اندر ہی موں لوبھ ہے ، اندر ہی موں کام
اندر ہی موں یاد ہے اندر ہی موں نام
(۱۶۵۴ ، گنج شریف ، ۲۱۵) ۔
بس اب میں کیا کروں کیونکر اسے لے بہلاؤں
پدر کی یاد بھولا کیونکہ اس کوں پرچاؤں
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۷۶) ۔
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۱۲۵)
۔ آپ لوگوں کی یاد اور تذکرہ ہر وقت رہتا ہے
(۱۹۳۰ ، دامان باغباں ، ۵۹)
یہ زمانہ بہادر یارجنگ کی زندگی کا ایک خاص دور تھا جس کی یادان کو ہمیشہ بے قرار کر دیتی تھی
۔ (۱۹۸۶ ، سیاحت ممالک اسلامیہ (تعارف) ، ۱۷)
اس ملاقات کی چند باتیں تو مجھے یاد ہیں لیکن سب نہیں
(۲۰۰۴ ، گئے دنوں کا سراغ ، ۳۹۹)
۔ ۳۔ (تصوف) غیر حق کو فراموش کرنے اور مشغول بحق ہونے کی حالت ، تسبیح اور ذکرِ خدا کرنے کی حالت
اصل نور نہ جان نہ انجان ، نہ یاد نہ بسر ، نہ میں نہ توں
۔ (۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، ۴۱) ۔
جو کوئی تج یاد عشقاں سوں رکھے سر سجدہ یک چت سوں
اُسے دونوں جگت میانے سراہے افتخاراں خوش
(۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۱ : ۴۰) ۔
ترے نانوں کا یاد بس ہے منجے
ترا نانوں سو ہم نفس ہے منجے
(۱۶۴۹ ، خاورنامہ ، ۱۳) ۔
الٰہی دے توفیق اس داد میں
ہمیشہ اچھے او تیری یاد میں
(۱۶۷۹ ، ّقصہ ابو شحمہ ، ۷)
۔ ہور عقل مقیم سو اس دلالت پر قرار ہے ہور یاد ُسو ممتنع میں عارف کوں نا ڈبنے دیکر جتن کرتا ہے
(۱۷۶۵ ، چھ سرہار ، ۵۹) ۔
رائگاں عمر کھو نہ تو یکسر
یاد حق کے سوا نہیں بہتر
(۱۷۹۱ ، حسرت (جعفر علی) ، طوطی نامہ ، ۱۲۵))
نشست و برخاست آپ کی بے یاد حق تعالیٰ نہ تھی
۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۸)
یاد۔ ماسوائے اﷲ کو فراموش کرنا اور مشغول بحق ہونا ہے
۹۲۹ ، اصطلاحات صوفیہ ، ۱۷۱) ۔
۴۔ دل ، قلب ، خاطر ۔
جو کچھ کہوں اللہ اسے یاد سے کہنا
حسرت بھری آواز میں فریاد سے کہنا
(۱۹۰۷، کلام محروم ، ۲۴)
۵، کسی زمانے میں گنجفہ کھیلنے والے اپنے دوست یا عزیز کے نام کا ورق رکھتے تھے اور اس کو سب پتوں کے تقسیم ہونے کے بعد دیکھتے تھے
مجھ سے نفرت کس قدر ہے اس بت بے مہر کو
گنجفے میں بھی ورق رکھا نہ میری یاد کا
(۱۹۰۵، داغ ، یارگار داغ ، ۱۰)
[ف]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .