۱۔ ہے کی جمع ، وہ اور ہم اور آپ کے ساتھ زمانہء حال ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے نیز واحد کے لیے بھی بطور کلمہء تعظیم مستعمل ۔
کل شے محیط ہے اسے کون پچھانے
جو کوئی عاشق اس پیو کے اسے جیو میں جانے
اسے دیکھت گم رہے جیسے ہیں دیوانے
(۱۴۲۲ ، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز (دکنی ادب کی تاریخ ، ۱۳)) ۔
کہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاری
جاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۳۱۰) ۔
خیال خام ہے ہم پختہ مغزان جنوں بہلیں
بھلا ناصح کسی سے ایسے بگڑے بھی سنورتے ہیں
(۱۸۳۲ ، دیوان رند ، ۱ : ۹۷) ۔
جو یہ عمل کریں گے وہ سب رست گار ہیں
جنت میں زیر سایہء پروردگار ہیں
(۱۸۷۵ ، دبیر ، دفتر ماتم ، ۱ : ۸۴) ۔
صلح ُجو ایک قسم کے وہ ہیں جو نوجوان ہیں ۔
(۱۸۹۱ ، محاسن الاخلاق ، ۷۹۱) ۔
تھے کو ُبھلا کر آپ فقط ہیں کو دیکھئے
ہم کا زمانہ اب نہ رہا میں کو دیکھئے
(۱۹۲۱ ، اکبر الٰہ آبادی ، ک ، ۳ : ۳۴۵) ۔
آزاد ہیں تہذیب سے
آزاد ہیں تعلیم سے
(۱۹۵۷ ، مجید لاہوری ، نمک دان ، ۱۶) ۔
لکھنؤ آتے رہتے ہیں مجھے اطلاع ہمیشہ بعد از وقت ملتی ہے ۔
(۱۹۷۰ ، خطوط ماجدی ، ۴۵) ۔
ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ۔۔۔۔۔ ہماری زمینیں اتنی ہی بانجھ ہوگئی ہیں ۔
(۱۹۸۸ ، جدید فصلیں ، ۹) ۔
ابن اسحق کا تعلق رواۃ کی اُس دوسری نسل سے تھا جن میں الزہری ، عاصم بن قتادہ اور عبداللہ بن ابوبکر قابل ذکر ہیں ۔
(۲۰۰۴ ، فکریات (ترجمہ) ، ۹) ۔
۲۔ کلمہء تنبیہہ جو کسی کام کی ممانعت یا روکنے کے لیے آتا ہے نیز ناپسندیدگی یا غصے کے اظہار کے لیے بھی مستعمل ۔
ہر بار میرے منہ پہ جو آتا ہے جوش سے
ہیں طفل اشک خیر ہے یہ کون ڈھنگ ہے
(۱۷۹۸ ، سوز ، د ، ۴۲۷) ۔
منہ کو نہ سیا ناصح کی بخیہ گری اتنی
لوں میں بھی ابھی لتے ہیں پردہ دری اتنی
(۱۸۵۱ ، مومن ، د ، ۱۴۳) ۔
میرا تو ِ َّمنتوں سے وہ بوسے کا مانگنا
اور کہنا ان کا ناز سے لب کو ہلا کے ہیں
(۱۸۷۸ ، آغا (حسین اکبر آبادی) ، د ، ۷۰) ۔
حضرت ابوبکرؓ ۔۔۔۔۔ کہتے ’’ ہیں ‘‘ تم جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چیز مانگتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے ۔
(۱۹۰۷ ، اجتہاد ، ۸۵) ۔
مہاراجہ! بہادر نے بھی فرمایا کہ ’’ہیں ، یہ کیا ‘‘۔
(۱۹۳۶ ، میری شاعری ، ۲۵) ۔
ہیں بس بس ، اس بے وقوف کی باتیں چھوڑیے مجھے اس کے نام سے طیش آتا ہے ۔
(۱۹۵۹ ، وہمی ، ۷۴) ۔
۳۔ حیرت و استعجاب کے اظہار کے لیے مستعمل ۔
ہیں خیرا ، تو ہے لالا
تو ہیں یات اور توں ہے ڈالا
(۱۷۶۲ ، چرخی نامہ ، تحقیقی زاویے ، ۱۰۴) ۔
پوچھا کہ ہیں! میرا کبوتر کیا ہوا؟
(۱۸۸۴ ، قصص ہند ، ۲ : ۹۸) ۔
ہیں! خانصاحب نے تو مشاعرے میں نہ جانے کا عہد کرلیا تھا ۔
(۱۹۲۸ ، آخری شمع ، ۲۹) ۔
کیا کہتا تھا آگیا کہاں میں
کچھ نشہ تو پی گیا نہیں ہیں
(۱۹۳۶ ، اودھ پنچ ، لکھنؤ ، ۲۱ ، ۱ : ۴) ۔
سر کو ان بچوں کے چھاتی سے لگا کر یہ کہا
ہیں ُبرا مانتے ہو تم بھی مرے کہنے کا
(۱۹۴۲ ، خمسہء متحیر ، ۲ : ۲۷) ۔
تم ایک بادشاہ کو ذاتی طور پر جانتے ہو ۔۔۔۔۔ ہیں ؟ وہ کھلکھلا کر ہنس دیا ۔
(۱۹۸۹ ، سیاہ آنکھ میں تصویر ، ۱۲۶) ۔
۴۔ (عورتوں کی زبان) گھبراہٹ اور اضطراب ظاہر کرنے کے لیے ، ہائیں کی جگہ مستعمل ۔
گھبرائی کہ ہیں کدھر گیا ُگل
جھنجلائی کہ کون دے گیا ُجل
(۱۸۳۸ ، گلزار نسیم ، ۹) ۔
طائر کی مثال اوڑ گیا رنگ
جھنجھلا کے کہا کہ ہیں یہ کیا رنگ
(۱۸۸۷ ، ترانہء شوق ، ۵۸) ۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .