جسے غین کہتے سو وہ عین ہے
ہوا ایک نکتہ سو وہ غین ہے
عجب طرح کا غم ہوا ، جس کا بیان نہیں کر سکتا ، ایکبارگی یتیم ہو گیا ۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۲۰) ۔
ہوا تھا حال دل کا کیا پتلا
جھوٹ اچھا نہیں ہے یہ بخدا
سب سے پہلے دائی کو معلوم ہوا کہ بیٹا ہے اس نے اتنی عقل مندی کی کہ لوگوں پر بیٹے کا ہونا فوراً ظاہر نہیں ہونے دیا ۔
(۱۸۸۵ ، فسانہء مبتلا ، ۷) ۔
جب حالیہ کے ساتھ (ہوا) آتا ہے تو صفت کے معنی دیتا ہے جیسے کھویا ہوا ، روتا ہوا وغیرہ ۔
(۱۹۱۴ ، قواعد اردو ، مولوی عبدالحق ، ۱۰۶) ۔
دیباچہ ہوا ، تعارف ہوا ، پیش لفظ ہوا ، خدا معلوم ان کی کتنی فرمائشیں صبح و شام ہوتی رہتی ہیں ۔
(۱۹۵۴ ، اپنی موج میں ، ۵) ۔
طرزِ کلام اُن کا ہوا طرزِ خاص و عام
بدلیں گے اب وہ بات کا انداز کس طرح
خود میرا تو یہ حال ہوا کہ اسی رات شیر شاہ کی تاریخ پڑھ ڈالی ۔
(۱۹۸۷ ، جرنیلی سڑک ، ۲) ۔
عریانی دیکھکر جو لپٹنے کو میں ہوا
تیوری چڑھائی آپ نے کپڑے اوتار کے
پھر تازہ ہوا جوش جنوں فصل گل آئی
پھر شوق ہوا سلسلہ جنبانِ تمنا
جداں تی ہوا مجھ پہ طوفان جان
نہ پایا کہیں آدمی کا نشان
سوائے میرے کوئی لڑکا بالا
اس کے یہاں نہیں ہوا ۔
خدا کی قدرت منجھلی کے ہاں لڑکا ہوا ۔
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۱۶۸) ۔
نہ مٹے گا وہ نہ ہوا ہے وہ یہ تو وہ ہی جانے کہ کیا ہے وہ
وہی آپ اپنا علیم ہے ، زہے شان جل جلالہ،
نو مہینے کے بعد پھول سا لڑکا ہوا ۔
(۱۹۸۵ ، قصہ کہانیاں ، ۵۷۷) ۔