اجھوں لگ آئے نیں ساقی کتے تھے آئیں گے پرسوں
رووں تو بھوت ہے دل میں کہو کیا جاکتا پرسوں
ایک ہفتہ رہ کر پرسوں پانی پت گئے ہیں.
(۱۸۹۴، مکتوبات حالی ، ۲ : ۱۷۴)
میں پرسوں دیکھ آیا کہ سب چیمیں تمھاری مرضی کے موافق مکمل ہوگئیں .
(۱۹۲۵، مینا بازار ، شرر ، ۴۳)
ہمیشہ آج کا کل، کل کی پرسوں
کہاں تک میرے تئیں بتلائے گا تو
کام کو چاہتا ہے کہ اترسوں کا ہوتا پرسوں اور پرسوں کا ہوتا ... اسی دم ہوجائے.
(۱۸۹۱، ایامیٰ ، ۷۳)
بیوی ”پرسوں اللہ رکھے برات چڑھے گی“.
(۱۹۱۲، شہید مغرب ، ۴۶)