غرض ایک آپیچ سب ٹھار ہے
اسی نور کا سب میں جھلکار ہے
کچھ مول لے کھا غرض او دو یار
بازو سوں رکھہ اپنی اپنی دستار
تُجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
کیا گِلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا
رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
غرض شستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
جفائے یار محبّت کو آزمانے لگی
تمام عمر کی محنت غرض ٹھکانے لگی