سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
میں تو تجھے اپنا رب سمجھتا ہوں ضرور
تو بھی تو مجھے بندہ سمجھتا ہوتا
میں ہور جس کوں فرماں کرے بندہ ہیں
ترے تائیں دنیا منیں زندہ ہیں
بندہ ہوتا ہوں آپ کا بے دام
ہوئے درکار اگر غلام تو لو
نہیں کچھ اور لیاقت تو پانوں دابینگے
ہمیں کو بندہ بنانا غلام کر لینا
بلا بھیج بندے کو اس حال میں
نظر کر مرے بے بہا مال میں
پرسوں شام ۔ ۔ ۔ آٹھ بجے کے وقت بندہ مٹر گشت کو نکلا۔
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۱ : ۴۸۲)
اختلاط عجم سے لفظ آپ اور تم اور بندہ داخل روز مرہ ہوگئے۔
(۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ، ۳ : ۱۶۹)
نئی تعلیم کے معصوم بندے یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ شاعری کی وقعت کا دارومدار محض خیالات کی بلندی اور پاکیزگی پر ہے۔
(۱۹۲۸ ، چکبست ، مضامین ، ۲۶۲)
جیتے ہوئے بندے تھے ہزاروں
قسمت نے پھنسائے یہ بھی چاروں
چھ برس کا پرانا بالا پوش وہ بھی ایک ، اور بندے چھ .
(۱۹۲۸ ، پس پردہ ، ۴۱)