ہاتھ سے اینٹاں بناتے تھے کبھی سر پہ لکڑیاں لاتے جنگل سے کبھی
(۱۷۳۳ء پنچھی نامہ ،۶)
صحاباہ نے اپنے ہاتھوں سے مٹی کی اینٹیں تیار کیں.
(۱۸۸۷ء خیابانِ آفرینش ، ۶۰)
آج سے سو برس پہلے صرف ایک قسم کی ینٹ ہوتی تھی جسے لکھوری کہتے تھے.
(۱۹۵۸ ء مہذب اللغات ،۴۹۸:۱)
ہوا ہے حسرت زر میں مہوس کیا مناسب ہو
اگر لگوائیں اینٹیں قبر میں دو چار سونے کی
چار ساڑے چار سو اینٹ کی چاندی نگینہ البتہ دو پلکا ہے .
(۱۹۵۴ ء اپنی موج میں ، آوارہ ، ۱۴)
تاش کے لال رنگوں میں ایک کا نام اینٹ ہے اور دوسرے کا نام پان ہے.
(۱۹۱۳ء انتخاب توحید، ۹۲)