اکاش انچہ پاتال دھرتی تہیں
جہاں کچھ نکوئی، تہاں ہے تہیں
جہاں شعاع آفتاب کا نہیں پس وہاں کیا کام نظر کا اندھارے میں.
(۱۵۹۱، جامن، کلمۃ الحقائق، ۸۳)
جہاں پر بھگت یہ کتھا سناتے ہیں تہاں سب تیرتھ اور دھرم آتے ہیں.
(۱۸۰۳، پریم ساگر، ۷)
جہاں بد اندیش نہ تھا وہاں عاقبت اندیش بھی نہ تھا.
(۱۹۰۰، خورشید بہو، ۱۳)
سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہوجائے
لذت سنگ با اندارہ تقریر نہیں
آگ ہے آگ اسے کون کہے گا پانی
چھالا اٹھ آیا جہاں آنکھ سے ٹپکا پانی
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دے ٹک دکھائی ہوچکی بس
جہاں نوالا توڑا اور باپ کا تصور بندھا.
(۱۹۰۸، صبح زندگی، ۲۲۱)
س
[ پ: جیتِ آ + تھانے # + # ؛ س : یاوت + ستھائے जेएत+आ+थनय्+पवत्+सथनय्]
