ملاح بڑے لمبے لمبے بانس کشتی میں رکھتے ہیں کہ اس سے پانی کا حال معلوم کریں۔
(۱۸۴۵، مجمع الفنون (ترجمہ) ، ۲۶۰)
ان جنگلات میں ... بید اور بانس بھی ... بلند ہوتے ہیں۔
(۱۹۰۶، تربیت جنگلات ، ۱۴)
لاہور سے سری نگر تک ۹۷ کر وہ , ۷ بانس کا فاصلہ ہے۔
(۱۸۹۷، تاریخ ہندوستان ، ۵ : ۴۳۴)
جنگل کی ٹٹہری بانس ڈیڑھ بانس اونچی پھُر پھُراتی ہوئی بول رہی تھی۔
(۱۹۴۴، رفیق حسین ، گوری ہو گوری ، ۱۳۱)
کہ دُبلا ہوا ادبی ادک باج گھانس
نکل پیٹ (پیٹھ) کا بھار آیا تھا بانس
سردی بانس پشت کے اوپر سے نیچے ہو کر گرمی معلوم ہوتی ہے۔
(۱۸۶۰، نسخۂ عمل طب ، ۱۴۰)