خطا سے مبرا و محروم ہیں
گناہوں سے یہ لوگ معصوم ہیں
دغا اس تھے دیتا ہوں معلوم اچھو
تمے کھائیں ہور میں سو محروم اچھو
نہ ہوئے جام کوثر سیں محروم وو
علیؓ ولی جس کا والی ہو
سبھی ہو نہ محروم یے آب سیں
جو توبہ کریں آپ تو آب دیں
ایک محروم چلے میر ہمیں عالم سے
ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
کلام معترض کی جا سخن میں ہم نہیں رکھتے
گیا محروم ہو کر جب کوئی یاں نکتہ چیں آیا
معدہ محروم غذا ہے ، کیسہ ہے محروم زر
آپ کے عمال نے لوٹا ہے ہم کو اِس قدر
ایک کثیر آبادی بجلی کی روشنی ، پینے کے صاف پانی اور دوا علاج کی سہولتوں سے بھی محروم ہے
(۱۹۹۴ ، افکار ، کراچی ، اکتوبر ، ۱۱)