(ii) غیرمحسوس اور غیر حاضر کو محسوس اور حاضر تصور کر کے اس کی طرف ایما یا کسی عضو کی حرکت.
اب صعف اس تحریر کا اشارہ لکھنا منظور تھا.
( ۱۸۵۸ ، خطوط غالب ، ۱۶۴ ) .
اس اشارہ کا وقوف جوہری نظریے کا ایک نہایت مفید نتیجہ ثابت ہوا.
( ۱۹۵۷ ، سائنس سب کے لئے ، ۱ : ۸۴۰ ) .
(iii) کسی عضو کی ادنیٰ حرکت ، قدرے تحریک ، چشم و ابرو سے یا کسی اور طرح منشا کا خفیف سا اظہار.
خرابی میں جس کی اشارہ کرے
او سے ایک پل میں اوارہ کرے
( ۱۷۱۹ ، جنگ نامہ عالم علی خاں ، ۸ ) .
اے خوش قدو اشارہ ابرو کی دیر ہے
چلتا ہے نخل طور پر ارہ ہلال کا
( ۱۸۳۶ ، ریاض البحر ، ۱۱ ) .
۲. خاص صورت بنانے یا کسی عضو کی نمایاں حرکت سے منشا کا اظہار (جیسے دائیں بائیں جانب گردن ہلانے سے انکار کی طرف اشارہ ، پانچوں انگلیوں کو کنارے ملا کر منھ پر رکھنے سے کھانے کی طرف اشارہ ، خاص ادائوں سے مستی کی جانب اشارہ ، وغیرہ).
یہ صرف ہاٹ بازار ی نہیں تھا ایک ادارہ تھا تمدن کا ، ایک اشارہ تھا کلچرکا.
( ۱۹۶۲ ، ماہنامہ ، ساقی ، کراچی ، ۶۵ ، ۵ : ۲۵ ) .
۴. محبت بھری یا محبت انگیز نظر ، نظر بازی ، غمزہ ، کرشمہ ، معشوقانہ ناز و انداز.
کہے ان کے اشارے کی وہی بات
پڑھے جو حکمہ العین اور اشارات
( ۱۸۱۰ ، جرات ، ۵ ، ۲۵۶ ) .
بس اک اشارے میں لے گئی تو دلوں سے ایمان و صبر و تقویٰ
بتا تو اے چشم مست کا فریہ کیا ہے گر ساحری نہیں ہے
( ۱۹۰۷ ، کلیات اکبر ، ۱ ، ۲۲۶ ) .
۵. الفاظ یا عبارت میں کسی مفہوم کا مبہم قرینہ ، اجمالی ذکر یا معلومات جو تفصیل کی بنیاد ہو ، اجمال ، مختصر نوٹ ، حاشیہ ، صراحت کی ضد.
محمد (صلعم) کون کیا یو پیالانئیں آیا محمد (صلعم) دریا تھا محمد (صلعم) میں سمایا اتناج اشارہ دکھلایا انا احمد بلا میم.
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۳۴ ) .
ایما اشارہ رہنے دے کہتا ہوں اب صریح
اول ہی لفظ کا نہیں ہے قافیہ صحیح
( ۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۱۰۲۹ ) .
تقدیر امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن ک فراست ہو تو کافی ہے اشارا
( ۱۹۳۸ ، ارمغان حجاز ، ۲۳۱ ) .
۶. مقررہ نشان افعال خاکے آثار آواز خطوط الفاظ یا منصوبات اور جھنڈیوں وغیرہ سے مطلب کا اظہار . (جیسے تیر کے نشان سے اس سمت رخ کرنے کا اشارہ جدھر اس کی نوک ہے ؛ گنل ڈائون ہونے سے اس امر کا اشارہ کہ ریلوے لائن صاف ہے ؛ یا جیسے اسکائوٹنگ ، شہری دفاع ، ڈر وغیرہ کے اشارے).
افسران اشارہ لے لیں گے اس افسر سے جو....رینک میں داہنے پر ہوگا.
( ۱۷۷۷ ، رائڈنگ اسکول ، ۳۳۸ ) .
۷. تلمیح ، حوالے یا سیاق و سباق سے کسی امر کی طرف رہنمائی.
بڑے بڑے قصوں کی طرف صرف اشارے ہی کیے گئے ہیں.
( ۱۸۸۷ ، خیابان آفرینش ، ۶ ) .
۸. درپردہ تمریض یا چوٹ.
اشارے کنایے میں دوسروں کی تحقیر اور درپردہ اپنی بڑائی دکھانا ان میں بالکل نہ تھا.
( ۱۹۳۵ ، چند ہمعصر ، ۱۳۹ ) .
۹. (قواعد) وہ اسم جس سے کسی شخص یا چیز کی طرف اشارہ کریں ، جیسے یہ شخص ، وہ فلم
(مصباح القواعد ، ۱۳۰).
۱۰. (ادب) تشبیہ ، استعارہ اور مجاز کے علاوہ روایتی یا رسمی طور پر کسی مفہوم کی طرف رہنمائی ، علامت ، رمز ، (انگریزی : سمبل Symbol)
کاش آپ اچھوتے شاعرانہ اشاروں کو سمجھ سکتے.
( ۱۹۲۴ ، اودھ پنچ ، لکھنئو ، ۹ ، ۲۹ : ۹ ) .
۱۱. (تصوف) دل کے رجحان کا اعمال و افعال سے اظہار جو بوجہ لطافت معنی عبارت اور الفاظ میں ادا نہ ہو سکے.
(مصطلحات عرفا ، ۴۲).
[ ع : (ش و ر) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .