۱. (i) ایک حصہ آکسیجن اور دو حصے ہائیڈروجن سے مرکب سیال (جسے بےمزہ اور بےرنگ کہا جاتا ہے. پینے کے علاوہ اور بہت سی ضرورتوں میں استعمال ہوتا ہے. پیاس بجھانے کے لئے عموماً دریا ندی یا کنویں وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے)، پانی.
نہ کہہ اصل میں کیا یو سیماب ہے
روپا گل کے تس تی ہوا آب ہے
(۱۶۵۷، گلشن عشق، نصرتی، ۱۱۰)
خواہاں تھے نخل گلشن زہرا جو آب کے
شبنم نے دیے تھے کٹورے گلاب کے
(۱۸۷۴، انیس ، مراثی، ۳۳۷:۱)
بفیض آب نوید گل و گلاب آئی
زمین خاک تھی پانی سے آب و تاب آئی
(۱۹۷۰، مراثی نسیم ، ۳۶:۲)
(ii) اربعۂ عناصر میں سے ایک عنصر.
قدیم حکماکے نزدیک چار جسم بسیط تھے آب وآتش وبادوخاک.
(۱۸۵۶، فوائد الصبیان، ۱۳۷)
اپنے منصب کا فرمان خاص لے کر اسی کاشانۂ آب و خاک میں واپس آجاتے ہیں.
(۱۹۲۳، سیرۃالنبی، ۳۵۶:۳)
۲. دریا، سمندر، ندی، چشمہ، جھیل وغیرہ یا ان کا کوئی حصہ.
زآب بھنور تا لب نربدا
نہ چھوڑوں تو نگر نہ چھوڑوں گدا
(۱۵۶۴، حسن شوقی، د، ۸۷)
داروغہ توپ خانہ اور آغر قراول جا کر معبرآب پر تصرف کریں.
(۱۸۹۷، تاریخ ہندوستان، ۱۹:۹)
۳. پسینہ (اکثر ترکیب میں) ، جسے : آب شرم ، آب خجلت .
کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور
کہ آب شرم میں ہے جوش چشم ترکاسا
(۱۸۵۱، مومن ، ک ،۸)
۴. آنسو، آنسو کا قطرہ یا قطرے (اکثر ترکیب میں).
دیکھی حال مینا سونا تاب لیا
اپیں بی ذرا آنک میں آب لیا
(۱۶۳۵، مینا ستونتی (قدیم اردو ، ۱۳۵:۱))
چشم پرآب.
(۱۹۲۴، نوراللغات، ۳۸:۱)
۵. ،لعاب ، تھوک ، رال (عموماً اضافت کی صورت میں) ، جسے : آب دہن(رک).
۶. (اوس کا) قطرہ یا قطرے.
چمن تر نہ شبنم کے ہے آب سوں
کہ موں دھوئے ہیں پھول گلّاب سوں
(۱۶۰۹، قطب مشتری، ۶۰)
۷. پھلوں کا قدرتی عرق(جیسے آب تربزہ)؛ پھلوں پھولوں اور پتیوں وغیرہ کا افشردہ، کس چیز کو جوش دے کر یا پیس کر نکالا ہوا گاڑھا پانی، کسی شے سے کشید کیا ہوا عرق (جیسے گلاب وغیرہ).
آب انگورمے کشوں پہ ہے بند
محتسب کی طرح یزید نہیں
(۱۸۳۲، دیوان رند ، ۹۴:۱)
سر کے بال گرجاتے ہیں ان کو آب برگ چقندر سے دھونے کی ضرورت ہے.
(۱۹۲۶، خزائن الادویہ، ۳۵۹:۳)
۸. شراب.
شراب اس بہوت تند ہور تیزتھا
عجب آب وو آتش آمیز تھا
(۱۶۰۹، قطب مشتری، ۹۵)
آب حیات بن گئی ناسخ شراب صاف
جو اس نے جام آب سے اپنے لگائے ہونٹھ
(۱۸۳۱، دیوان فاسخ ، ۱۲۷:۲)
۹. رقیق مادہ جو پھپھولے یا چھالے سے پھوٹ کر بہے.
آبلوں سے پاے مجنوں میں جو ٹپکا آب گرم
جل گیا کوئی کوئی خار مغیلاں گل گیا
(۱۸۴۵، کلیات ظفر، ۵۷:۱)
۱۰. کیمیائی سیال میں حل کی ہوئی دھات (عموماً دھات کی طرف اضافت کے ساتھ )، جیسے آب زر (رک) .
۱۱. (طب) پارہ
(خزائن الادویہ ، ۱:۷)
۱۲. (تصوف) وہ فیض جو ان لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے اپنی ہستی کو فانی کردیا ہے.
(مصباح التعرف لارباب التصوف ، ۲۲)
۱۴. گیارھویں روسی مہینے کا نام جس میں آفتاب برج اسد میں ہوتا ہے اور جو خزاں کو خاتمے کا وقت ہے.
رنج اچھے تو غم نہ کر بعد خزاں بہار ہے
غم کی اندھاری سوں نہ ڈر آب پچھیں بہار ہے
(۱۷۰۷، دلی ، ک (ضمیمہ اول) ۳۵)
اس کا طلوع چودھویں آب کی شب کو اور بارھویں شباط کی شب کو مقطوط ہے.
(۱۸۷۷، عجائب المخلوقات اردو، ۷۲)
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .