( تاریخی ا ُصول پر )


آب () امذ  

۱. (i) ایک حصہ آکسیجن اور دو حصے ہائیڈروجن سے مرکب سیال (جسے بےمزہ اور بےرنگ کہا جاتا ہے. پینے کے علاوہ اور بہت سی ضرورتوں میں استعمال ہوتا ہے. پیاس بجھانے کے لئے عموماً دریا ندی یا کنویں وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے)، پانی.
(ii) اربعۂ عناصر میں سے ایک عنصر.
۲. دریا، سمندر، ندی، چشمہ، جھیل وغیرہ یا ان کا کوئی حصہ.
۳. پسینہ (اکثر ترکیب میں) ، جسے : آب شرم ، آب خجلت .
۴. آنسو، آنسو کا قطرہ یا قطرے (اکثر ترکیب میں).
۵. ،لعاب ، تھوک ، رال (عموماً اضافت کی صورت میں) ، جسے : آب دہن(رک).
۶. (اوس کا) قطرہ یا قطرے.
۷. پھلوں کا قدرتی عرق(جیسے آب تربزہ)؛ پھلوں پھولوں اور پتیوں وغیرہ کا افشردہ، کس چیز کو جوش دے کر یا پیس کر نکالا ہوا گاڑھا پانی، کسی شے سے کشید کیا ہوا عرق (جیسے گلاب وغیرہ).
۸. شراب.
۹. رقیق مادہ جو پھپھولے یا چھالے سے پھوٹ کر بہے.
۱۰. کیمیائی سیال میں حل کی ہوئی دھات (عموماً دھات کی طرف اضافت کے ساتھ )، جیسے آب زر (رک) .
۱۱. (طب) پارہ
(خزائن الادویہ ، ۱:۷)
۱۲. (تصوف) وہ فیض جو ان لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے اپنی ہستی کو فانی کردیا ہے.
(مصباح التعرف لارباب التصوف ، ۲۲)
۱۴. گیارھویں روسی مہینے کا نام جس میں آفتاب برج اسد میں ہوتا ہے اور جو خزاں کو خاتمے کا وقت ہے.