یقیں جانتی ہوں قیاس و خیال
کہ یاں آدمی زاد آنا محال
دل منے تیرے وا ہے یہ خیال
جیؤنا اوس باج ہے مجکوں محال
ثنائے جہاں آفریں ہے محال
زباں اس میں جنبش کرے کیا مجال
اس لیے شاہراہ منافرت سے منزل مقصود پر پہنچنا محال ۔
(۱۹۳۴ ، شہید مغرب ، ۵۲)
ان کے پاؤں میں کپکپی پیدا ہوتی ہے جس کی خلش حاصل کیے بغیر منزل تک پہنچنا محال ہے ۔
(۱۹۹۴ ، نگار ، کراچی ، فروری ، ۱۵)