مسافر پہ ہوئی یو خوشی بی بڑی
کہ کئ دن کوں بستی نظر تل پڑی
جوش وحشت کے ہمارے اور ہی کچھ ڈھنگ ہیں
رہنے دے گا یہ نہ جنگل میں نہ بستی میں ہمیں
جو بھوکی ہے جا نیچے بستی میں مانگ
ابھی بھاگ جا ورنہ توڑوں گا ٹانگ
اس محفل میں نواب صاحب کے دم کی بستی ہے.
(۱۹۲۴ء نوراللغات ، ۶۳۷:۱)
اسفنج زیادہ تر بستیوں کی شکل میں ایک دوسرے سے ملے جلے پائے جاتے ہیں.
(۱۹۴۲ء حیوانیات ، ۱۱)