میں آج رات منگتا ہوں از تخت و تاج
چراؤں ترے سر تھے میں آج رات تاج
مہندی جو مل کے بزم میں آیا وہ شام حسن
دل ہاتھوں ہاتھ درد حنا نے چرا لیے
(۱۸۵۷، امانت ، د ، ۱۰۱).
دودھ دہی مکھن چرا کر اپنے دوستوں کو کھلاتا ہوں.
(۱۹۱۱، پہلا پیار، ۹۳).
مصباح نے تیغہ مارا، طہاس نے سر چرایا تیغہ اس کا خیالی گیا.
(۱۸۹۲، طلسم ہوش ربا، ۶ : ۸۳۵).
۳. چوس لینا، جزب کرنا ؛ کسی کام کے کرنے سے کترانا ؛ کسی کا کلام اپنا ظاہر کرنا، سرقہ کرنا.
(نوراللغات، جامع اللغات).
دل افگار مھبت اس طرح اشکوں کو بنجائے (کذا)
کہ پانی زخم دل اے دیدۂ پرنم چراتے ہیں
جہاد میں جان چرانے ولے بدوں سے کہہ دو کے تم کو ایک سخت طاقتور قوم سے جنگ کرنے کے لئے بلایا جائے گا.
(۱۹۲۳، سیرۃ النبی ، ۳ : ۵۴۶).