جو تھی من میں مطلوب طالب کی آس
انپڑنے کی باری اپیں آئی پاس
ہے پریشاں دشت میں کس کا غبار ناتواں
گردکچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس
اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹادیا
بھٹکے ہوؤں کو پاس کا رستا بتا دیا
بندہ قطب شہ داس میں، بخشش منگوں تج پاس میں
پکڑیا ہوں تیری آس میں، تج بن نہیں کوئی یا علی
میں عقل کی فریاد کیا حاکم غم پاس
دروازۂ دل سیں اسے حکم بدر آیا
پھر یہ منہ لے کے آے ہو مجھ پاس
دورہو سامنے سے نفرت ہے
اس کا بڑے بت کے پاس بڑا درجہ ہے.
(۱۸۰۲، باغ وبہار، ۱۷۰)
ہے جن کے پاس اس دنیا کی وقعت دین سے افزوں
ہمیں کیا کام ہم ان سے رہیں انجان بہترہے.
جو روتا ہوں تو آنسو پوچھ کر کہتا ہے مت رو تو
ترا دل پاس میرے ہے تو کیوں جیوڑا کڑھانا ہے
کیوں کھنچی جاتی ہے گردن خود بخود قاتل کوئی
سحر ہے جادو ہے افسوں ہے ترے خنجر کے پاس
ہر ادا ان کی ایک قاتل ہے
پاس تیغ وسناں نہیں نہ سہی