کیا رام خلوت منے انجمن
بلایا جیتے راے ہور راے زن
میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
خورشید بہو مستان شاہ کو بلاتی تو کیونکر سے بلاتی.
( ۱۹۳۱ ، رسوا ، خورشید بہو ، ۱۰۸ ).
شیخ نے منھ پھیر لیا اور کہا منجھ مت بلاوو.
( ۱۳۶۶؟ ، شیخ زین الدین (مقالات شیرانی ، ۱ : ۱۴۵) ).
فراق سوں دل اٹھے شور کر اگر نیں تو
فغاں بلاے بغیر کوئی جوس نہیں کرتا
ناحق کو جلاتے ہو کیوں ہم کو بلاتے ہو
دشمن تو ابھی تک ہے پہلو سے نہیں سرکا
صبا بے نچائے ناچ رہی ہے اور مرغان خوش الحان بے بلائے بول رہے ہیں .
( ۱۹۱۰ ، مقامات ناصری ، ۴۶۸ ).
اگر کوئی شخص عیادت کو آتا اور یہ کہتا کہ حق تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرماتے تو آپ ناخوش ہوتے اور فرماتے خدارا یہ دعا کرو کہ مجھے یہاں سے بلا لے.
( ۱۹۵۳ ، حیات شیخ عبدالحق ، ۷۲ ).
جب بند ہو حقہ تو خفا ہوتا ہے دم بھی
پینا ہمیں آتا ہے بلانا نہیں آتا