ہے اقبال حشمت میں جاہ و جلال
رہے نت ترقی میں مثل ہلال
ترق میں ہے درد و غم دم بہ دم
کیے جاتے ہیں نالے دم بہ دم
یہ الفاظ اگرچہ اب ترق اردو کے ساتھ ہر جگہ اور ہر شہر میں پھیل رہے ہیں.
۰۱۹۲۶ ء شرر ، مشرق ععدن کا آخری نمونہ ، ۴۴۱)
اس ترقی کے وقت میں اے شوخ
مہربانی اپس کی کم مت کو
ایسی بہت سی مثالیں زمین کی ترقی اور تنزل کی ہیں
(۱۸۷۵ ء جغرافیہ طبیعی ، ۱ : ۱۰۷)
اگ اُردو لٹریچر کی ترقی کا خیال ایسا ہی دور ازکار خیال ہے . . . تو یہ بحث پیسش ازوقت نہیں بلکہ نا وقت ہو گی.
۰۱۸۹۳ ء مقدمہ شعر و شاعری ، ۱۱۵)
اسی زمانے میں یورپین لیتھو گرافی مٰن تین ترقیاں ہوئیں. ۱۹۳۱ ء انگریزی عہد میں ہندوستان کے معدن کی تاریخ ، ۲۰۵
(۱۸۹۳ ء مقدمہ شعر و شاعری ، ۱۱۵)
اس زمانے میں جاڑے کی یہ ترق تھی کہ آج تک بتوں کی سرد مہری نہ گئی.
(۱۸۲۴ ء فسانۂ عجائب ، ۲۰۸)
وہ دربار کے کاروبار مین مثلاً کسی عہدہ دار کے تقرر ، ترق ، تنزل ، تبدل میں کچھ نہ کہہ سکتی تھیں.
(۱۸۸۷ ء مخندان فارس ، ۲ : ۱۲۴)
ترقی اور تنزلی افسر اعلیٰ کی خوشی ہر موقوف ہے.
(۱۹۰۰ ء شریف زادہ ، ۶۴)
ہر لڑکے لیے اعلیٰ درجے کی ترقی پانے کی تاریخ بھی اسی طرح اس درجے کے نیچے لکھی جاوے گی جس مٰن اس نے ترق پائی ہو .
۰۱۸۸۶ ء دستورالعمل مدرسین ، ۲)
یہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ اسفل سے اعلیٰ کی طرف ترقی کی جائے.
(۱۹۳۲ ء عالم حیوانی ، ۳۳)