ناسور نہ یو سسی ثریا
یو گیان ہے گیان گیان بھیّا
بہنیں پکارتی تھیں کہ بھیا تیرے نثار
سینوں کو پیٹتی تھیں خواصیں بحال زار
نہ لی بھیا نے بھی سدھ بدھ ہماری
جہاں سے چاہ اٹھتی جارہی ہے
ہائے پورن . . . میرا بھیا . . . اوئی اس کی آنتیں لوٹ جائیں گی . . . ہائے میرا بچہ.
( ۱۹۴۳ ، ضدی ، ۵۴ )
ہماری بڑی سالی کے بھیا کی مونچھوں کا کونڈا ہے.
( ۱۸۸۹ ، سیر کہسار ، ۱ : ۹۵ )
تم بھیا ادھر مسند پر آکے بیٹھو.
( ۱۸۹۳ ، پی کہاں ، ۱۴ )
حضرت باب فرید اپنے ایک دوست کو بھیا کہا کرتے تھے.
( ۱۹۲۵ ، تاریخ زبان اردو ، ۲ )
نہیں ہے ان میں کوئی بات آدمیت کی
جو آدمی کی صفت ہے وہ اور ہے بھیا
کسی کی بیجا بات تو بھیا مجھ سے کبھی بھی برداشت نہ ہو گی چاہے تم ہو چاہے تمھارے بڑے بھائی.
( ۱۹۶۰ ، مہذب اللغات ، ۲ : ۴۱۷ )