بی بی ایمنہ بیت رہیا جب ساری جگ ایں کے بدھائی
کعبے ایں کے سجدے کیتے جیدھر جنیاں بنی سومئی
سارا احوال جو بیتا ہے سنا کر آئوں.
(۱۸۰۲ ، گنج خوبی ، ۱۶۶ )
پہلے ڈاڑھی لحاف کے اندر رکھی، جی گھبرایا باہر رکھی ، اسی اندر باہر میں تین پہر رات بیت گئی.
(۱۹۴۳ ، تعلیمی خطبات ، ۱۲۴ )
جو کچھ کہ مجھ ایک دم پر بیتے گی سہ لوں گا.
(۱۷۳۲ ، کریل کتھا ، ۱۳۷ )
گزرے سو گزرے دل پہ محبت میں تجھ کو کیا
تو کہہ کہ تجھ پر عشق میں کیا بیتی جان ہے
نہ جانے تم پر کیا بیت رہی ہے.
، ۱۹۵۲ ، زیر لب، ۲۶۷ )