نہیں جھیرا زمانے کے ظلم کا
نہیں آخر زمانے کےستم کا
کیوں نہ اس سے لگائیں دل کو ہزبر
وہی آخرمیں وہ ہی اول میں
اے زندگی آخر نہیں تیری تگ و دو کا
جس طرح کہ رہتی ہے سر گرم سفر موح
ہو چکے ہیں تم سے آگ ستور سو پھر و زمین میں تو دیکھو کیسا ہوا آخر جھٹلانے والوں کا.
(۱۷۹۰ ، ترجمۂ قرآن ، شاہ عبد القادر ، ۶۱).