قریشاں کی عورتاں کو کہہ بھیجا
تمن گھر منے آیو میری بوا
مامائیں : اے بوا تم کون ہو کہاں سے آئی ہو۔
(۱۹۲۴ ، اختری بیگم ، ۹)
کسی حرکت ناشائستہ کو بھی چاہے تو بوا عقل میاں تجربے کے حوالے کردیتی ہیں۔
(۱۹۰۸ ، صلاے عام ، ستمبر ، ۱۵)
میں سب سامان ہوا ہرمزی اور مقصودن سے رکھوادوں گی۔
(۱۹۳۹ ، شمع ، ۱۴)
عمرا نے لونڈیوں کو پکارا کہ کیوں بوا جاگتی ہو۔
(۱۸۹۰ ، طلسم ہوشربا، ۴ ، ۴۴۴)
چلو تم کو ایسا خدا نے کیا
جو ماں سے نہ ہو وہ بوا نے کیا
دیکھے بھی ہے کسی کو دوانا تو کچھ نہیں
میّا کو اپنی چھیڑ تو اپنی بوا کو چھیڑ
تم کو بھی شاید تعجب ہوگا ، بھنگن سے بوا اور بہشتی سے بھائی کر کے بات کرتی تھیں۔
(۱۹۱۹ ، جوہر قدامت ، ۴۸)
کبھی بابا راج دو ہزار کی صورت بھی دیکھی تھی ، ہم نے تو آپ کی بوا کو بھی جوتیاں ہی چٹخاتے دیکھا۔
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۲ : ۳۰۰)
اردو کی آوازیں میں نے پہلے پہل اپنی بوا سے سیکھیں۔
(۱۹۷۱ ، اردو کا روپ (مقدمہ) ، ۱۸)